مشتبہ شخص نے سی آئی اے، امریکہ، اور لتھوئنیا کے خلاف متعدد قانونی کارروائیاں شروع کی ہیں۔ یورپی عدالت نے متفقہ طور پر فیصلہ دیا کہ لتھوئنیا میں غیر انسانی سلوک کی ممنوعیت کی خلاف ورزی ہوئی اور اس کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اس طرح ولنیس کو مشتبہ شخص کو امریکی قیدخانے منتقل کرنے میں تعاون نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ اسے موت کی سزا سنائے جانے کا خطرہ تھا۔
ولنیس کی حکومت نے ایک ردعمل میں کہا کہ وہ اس شخص کو 100,000 یورو کا معاوضہ دینے کے لیے تیار ہے۔
امریکہ نے اس وقت قید شدہ مشتبہ افراد کے انٹرروگیشن ملک سے باہر مفت پیشہ ور انٹرروگیٹرز کی خدمات لے کر کرائی تاکہ واشنگٹن کو قانونی چارہ جوئی سے بچایا جا سکے۔ اس طرح حکومت تشدد میں ملوث ہونے سے انکار بھی کر سکتی تھی۔ اطلاعات کے مطابق ایس طرح کے خفیہ قیدخانے پولینڈ اور سعودی عرب میں بھی موجود تھے۔
عدالت نے کہا کہ اسے 2014 کی امریکی سینیٹ کی رپورٹ سے اہم معلومات حاصل ہوئیں، جس میں بتایا گیا کہ سی آئی اے نے القاعدہ کے دہشت گردوں کی خفیہ قیدخانوں میں انٹرروگیشن انتہائی بے رحمانہ طریقے سے کی، اور کچھ معاملات میں یہ تشدد تھا جس سے کوئی موثر خفیہ معلومات حاصل نہیں ہوئیں۔
ال-ہوساوی کو اب گوانتنا مو بے میں رکھا گیا ہے جہاں وہ القاعدہ کے مالی اور رابطہ کار کے طور پر زیر حراست ہیں۔ یہ قید خانہ کیوبا میں امریکی فوجی اڈے پر واقع ہے اور امریکی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کی زیادتیوں کی علامت ہے۔
گوانتنا مو بے کی یہ حراستی مرکز 2002 میں ریپبلکن صدر جارج ڈبلیو بش نے قائم کیا تھا تاکہ دہشت گردوں کو رکھا جا سکے۔ 2001 میں نیو یارک میں ٹوئن ٹاورز اور پینٹاگون پر کیے گئے طیارہ ہائی جیکنگ کے حملوں میں تقریباً 3,000 امریکی ہلاک ہوئے۔ قیدیوں کی تعداد بڑھ کر تقریباً 800 پر پہنچ گئی تھی پھر اس کے بعد کم ہونا شروع ہو گئی۔

