ابھی دو کیسز یوروپین کورٹ آف جسٹس میں زیر التوا ہیں۔ یوروپی یونین کے رکن ممالک پر ضروری ہے کہ وہ دوبارہ استعمال کو فروغ دیں، لیکن سائپرس اس حوالے سے بہت پیچھے ہے۔ جب کہ دیگر ممالک ترقی کر رہے ہیں، اس جزیرے پر گھریلو فضلہ کی ری سائیکل کی شرح بہت کم رہی ہے۔ یورپی کمیشن کے مطابق یہ تعطل ماحول کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
سائپرس کو اپنی ناقص فضلہ پالیسی پر پہلے بھی انتباہات ملے ہیں۔ برسلز کا خیال ہے کہ یہ اشارے مؤثر ثابت نہیں ہوئے۔ چونکہ ابھی تک نمایاں بہتری نہیں آئی، اس لیے یہ معاملہ یورپی عدالت میں بھیجا گیا ہے۔
پہلا کیس قومی فضلہ انتظامیہ میں ساختی کوتاہیوں پر مرکوز ہے۔ سائپرس فضلہ کے سلسلوں کی مناسب علیحدگی نہیں یقینی بنا رہا، جس کے باعث زیادہ فضلہ ڈمپ کیا جا رہا ہے۔ دوسرے کیس میں ری سائیکلنگ کو حقیقی طور پر فروغ دینے اور سہولت فراہم کرنے والی پالیسیوں کو نہ اپنانے کا مسئلہ ہے۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سائپرس میں میونسپل فضلہ کی مقدار میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ دوبارہ استعمال کی شرح نہ کے برابر رہی ہے۔ دوسرے یورپی ممالک میں فضلہ کی مقدار مستحکم یا کم ہو رہی ہے، مگر سائپرس میں رجحان اس کے برعکس ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی کی کمی اور حکومت کی ناکافی نگرانی کا نتیجہ ہے۔
زرعی وزارت کے حالیہ آڈٹ میں اضافی خامیاں سامنے آئیں۔ کمیشن کے مطابق یہ نتائج اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ سائپرس ماحول کی حفاظت اور فضلہ انتظام کو ترجیح نہیں دے رہا۔ اس سے ماحولیاتی نقصان کا خطرہ بڑھتا ہے، جو نہ صرف جزیرے بلکہ وسیع تر خطے کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

