کونسل آف یورپ اور یوکرین نے جارحیت کے جرم کے خلاف وقف خاص ٹریبونل کے قیام کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ تقریب اسٹریسبورگ میں منعقد ہوئی۔ کونسل آف یورپ کے مطابق ٹریبونل کو ہیگ میں موجود بین الاقوامی عدالتی نظام کے اندر کام کرنا چاہیے۔
یورپی کمیشن کے چیئرمین نے ٹریبونل کے قیام کا عوامی طور پر خیرمقدم کیا ہے۔ برسلز اس اقدام کو فروری 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد روس کی جانب سے کیے گئے جنگی جرائم کے لیے انصاف لانے کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔
صدر زیلنسکی نے زور دیا کہ قانون کو اپنا کام کرنے دینا چاہیے، چاہے مجرم کی حیثیت کچھ بھی ہو۔ روسی صدر پوٹن کو بالآخر ایک بین الاقوامی ٹریبونل کے سامنے جوابدہ ہونا ہوگا۔ ان کے مطابق دیگر روسی رہنماؤں کو بھی مقدمے کی تیاری کرنی ہوگی۔
خصوصی ٹریبونل کا مرکز بین الاقوامی قانون کے تحت سب سے سنگین جرم یعنی جارحیت پر ہونا چاہیے۔ یہ پہلو اہم ہے کیونکہ موجودہ بین الاقوامی عدالتیں جیسے کہ عالمی فوجداری عدالت اس جرم کو مکمل طور پر نہیں سن سکتیں جب تک کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مینڈیٹ نہ ہو (جو کہ شاید روس کی مستقل رکنیت کی وجہ سے بلاک کر دی جائے)۔
ہیگ کو ٹریبونل کے قیام کی جگہ کے طور پر منتخب کرنے کی تصدیق خود زیلنسکی نے کی ہے۔ وہ اس جگہ کو بین الاقوامی قانون کے علم اور سابقہ جنگی ٹریبونلز کی موجودگی کی وجہ سے مثالی سمجھتے ہیں۔
ٹریبونل کی عین ساخت اور قانونی ڈھانچہ ابھی زیرِ بحث ہے۔ اکثریتی نمائندے اس بات کی توثیق کرتے ہیں کہ ٹریبونل کا قیام ایک اہم علامتی اور قانونی قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو یورپ میں روس کو یوکرین کے خلاف جنگ کے لیے ہر صورت سزا دلانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

