نیدرلینڈز یورپی عدالت برائے انصاف جائے گا تاکہ پلس مچھلی پکڑنے پر پابندی کو چیلنج کیا جا سکے۔ وزیر شاؤٹن (LNV) کے مطابق، یورپی یونین نے پابندی عائد کرتے ہوئے مختلف غلطیاں کی ہیں۔ عدالت میں قانونی کارروائی کئی سالوں تک جاری رہے گی اور اس دوران پلس مچھلی پکڑنے والوں کو پابندی کی پابندی کرنی ہوگی۔
پلس مچھلی پکڑنے کے آلات چھوٹے برقی جھٹکے دیتے ہیں جو مچھلیوں کو زمین سے باہر نکال دیتے ہیں۔ یورپی پارلیمنٹ نے اس سال پلس مچھلی پکڑنے پر پابندی عائد کی۔ چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والے مچھلی پکر اور ماحولیاتی تنظیموں نے ایک کامیاب مہم چلائی جس میں کہا گیا کہ برقی پلس مچھلی پکڑنا سمندری حیات کا خاتمہ کر دیتا ہے۔
نیدرلینڈز اب کہہ رہا ہے کہ اس پابندی سے یورپی قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ ڈین ہیگ کے مطابق کوئی نیا قانون تب ہی بنایا جا سکتا ہے جب بہترین دستیاب سائنسی مشورہ لیا جائے۔ سائنسدانوں نے مشورہ دیا تھا کہ پلس مچھلی پکڑنا سمندری حیات کے لیے پرانی مچھلی پکڑنے کی طریقوں سے بہتر ہے۔ مخالفین کی تنقید یہ تھی کہ کئی سالوں تک نیدرلینڈز نے 'سائنسی تحقیق' کے بہانے دسیوں پلس لائسنس جاری کیے، لیکن بہت کم تحقیق کی گئی۔
Promotion
نیدرلینڈز کے یورپی پارلیمنٹیرین پیٹر وان ڈالن (کرسچن یونائیٹ) اس قانونی کارروائی سے مکمل اتفاق کرتے ہیں۔ “نیدرلینڈز کی حکومت کا یورپی عدالت جانے کا فیصلہ بالکل درست ہے، خاص طور پر پلس مچھلی پکڑنے کے حوالے سے۔ سائنسدانوں نے ثابت کیا ہے کہ پلس مچھلی پکڑنا ایک ماحول دوست، انتخابی (= صرف وہی مچھلی پکڑنا جو چاہیے: غیر ضروری مچھلیوں کو پکڑنے سے بچاؤ) اور انتہائی مؤثر مچھلی پکڑنے کی تکنیک ہے۔”
یہ سوال باقی ہے کہ آیا مچھلی پکڑنے والے اس قانونی معاملے سے فائدہ اٹھا سکیں گے یا نہیں۔ آدھے پلس مچھلی پکڑنے والوں کو اپنا پلس آلہ پہلے ہی واپس کرنا پڑ چکا ہے، اور باقی آدھے کو چند سالوں میں ایسا کرنا ہوگا۔ تب تک عدالت میں کارروائی شاید ختم نہ ہو۔

