فراڈ کے کیس کا تعلق یورپی زرعی سبسڈیوں کے ناجائز استعمال سے ہے۔ درخواستیں ایسی زمینوں اور زرعی سرگرمیوں کی غلط معلومات کی بنیاد پر جمع کرائی گئی تھیں۔ کسانوں نے اس طریقے سے یورپی یونین کے فنڈز سے بڑی رقم وصول کی، جبکہ ان کے پیچھے حقیقی زرعی سرگرمیاں موجود نہیں تھیں۔
یونانی حکومت نے ان الزامات کے جواب میں متعلقہ سرکاری ادارہ اوپیکیپے (OPEKEPE) کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو سبسڈی کے انتظامات کا ذمہ دار تھا۔ یہ اقدام 2019 میں شروع کیے گئے طویل تحقیق کے بعد کیا گیا۔ اس تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ کنٹرول کے طریقہ کار میں شدید کوتاہی ہوئی تھی، جس پر اس خدمت کے اعلیٰ افسر کو بھی برطرف کر دیا گیا۔
اس معاملے کی ایک خاص بات یہ ہے کہ زیر بحث سبسڈی درخواستوں کا بڑا حصہ کریٹہ سے آیا ہے۔ یونان ہزاروں جزیروں پر مشتمل ہے جن میں سے دو سو سے زائد آباد ہیں۔ یہ جزیرے روایتی طور پر سرکاری امور خود مختاری سے چلایا کرتے تھے، جس کی وجہ سے ایتھنز سے نگرانی محدود رہی۔
یورپی عوامی پراسیکیوٹر (EPPO) فراڈ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ یونان کی اعلیٰ عدالت کے مطابق اس کیس کی تحقیق اور مقدمہ چلانے کا واحد مجاز ادارہ یہی یورپی ادارہ ہے۔ اس فیصلے سے قانونی ذمہ داری کے حوالے سے گزشتہ برسوں کی ابہام ختم ہو گئی ہے۔
اسی دوران، EPPO کے نمائندوں نے یونان میں اپنے اہلکاروں کے ساتھ رویے پر سخت تنقید کی ہے۔ محققین کو مقامی زرعی اہلکاروں کی طرف سے دھمکیوں اور خوفزدہ کرنے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ EPPO کے مطابق یہ جارحیت تحقیقات کو روکنے اور گواہوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے کی جا رہی ہے۔
برسلز میں اس معاملے کو تشویش کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ یورپی کمیشن نے یونانی حکام سے مکمل شفافیت کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یورپی یونین کے فنڈز کے غلط استعمال کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یونانی حکومت نے بھی سزا کے مقدمات اور انتظامی کارروائیوں کے مزید عمل میں مکمل شفافیت کا عوامی وعدہ کیا ہے۔
آنے والے چند مہینوں میں اسی فراڈ تحقیق کے نتیجے میں سات مزید ایسے مقدمات شروع ہوں گے۔ کل مل کر درجنوں افراد کو عدالت میں پیش ہونا ہو گا۔ ان مقدمات کے نتائج نہ صرف قانونی بلکہ یورپی یونین کے ممالک میں یورپی سبسڈیوں کے نگرانی کے سیاسی اثرات بھی مرتب کریں گے۔

