بھارتی وزیر اعظم مودی نے حالیہ دنوں میں سویڈن، نیدرلینڈز, ناروے اور اٹلی کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے یورپی حکومتوں کے رہنماؤں اور یورپی کمیشن کی چیئرپرسن ارسولا وان ڈیر لین سے بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تعاون کو بڑھانے کے بارے میں بات کی۔
غیر مستحکم دنیا
وان ڈیر لین نے سویڈن میں ایک یورپی گول میز اجلاس کے دوران کہا کہ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تعاون ایک "غیر مستحکم دنیا" میں استحکام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق تجارت، سیکورٹی، ٹیکنالوجی اور خلائی شعبے میں شراکت داری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
یورپی کمیشن کی چیئرپرسن نے بھارت اور یورپی یونین کے درمیان ایک تجارتی معاہدے کا حوالہ دیا جو سال کے شروع میں زیر بحث آیا تھا اور متعدد متعلقہ افراد کے مطابق دونوں فریقوں کے تعلقات میں ایک اہم قدم ہے۔ دفاعی شعبے میں مزید تعاون کے بارے میں بھی بات ہوئی۔
Promotion
سمندر اور ہوا میں
وان ڈیر لین کے مطابق بھارت اور یورپی یونین نے نیو دہلی میں پہلے حفاظتی اور دفاعی مکالمے کا انعقاد کیا ہے۔ اس میں بحری سلامتی، مشترکہ نیول مشقیں، سائبر سلامتی اور معلومات کے بہتر تبادلے پر بات ہوئی۔ اس کے علاوہ بھارت اور یورپی یونین مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز اور ڈیجیٹل نظاموں جیسے شعبوں میں اپنا تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔
دورے کے دوران خلائی شعبے پر بھی توجہ دی گئی۔ وان ڈیر لین نے اشارہ دیا کہ سویڈن کے پاس یورپی برِّ براعظم میں واحد خلائی اڈہ ہے اور انہوں نے حالیہ بھارتی خلائی منصوبوں کی طرف بھی توجہ دلائی۔ ان کے مطابق اس شعبے میں تعاون اقتصادی مواقع فراہم کرتا ہے اور سلامتی میں بھی مدد دے سکتا ہے۔
توسیع
یہ بات چیت ایسے وقت ہوئی جب یورپی ممالک دنیا بھر میں اپنے تجارتی تعلقات کو وسیع کرنا چاہتے ہیں۔ کئی ملاقاتوں میں یہ بات سامنے آئی کہ بھارت یورپی یونین کے لیے ایک اہم اقتصادی شراکت دار بنتا جا رہا ہے۔
وان ڈیر لین نے بھارت اور یورپی یونین کے تعلقات میں ایک "متحرک نیا دور" قرار دیا۔ ان کے مطابق دونوں فریق آئندہ مدت میں تعاون کو مزید گہرا کرنا چاہتے ہیں۔

