علاقے سے موصولہ تازہ خبریں بتاتی ہیں کہ اس وباء کا عروج ہے اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر جانوروں کو ختم کرنے کے آپریشن کیے جا رہے ہیں۔ بلغاریہ، رومانیہ, سربیا اور کروشیا سب سے زیادہ متاثرہ ممالک ہیں۔ پچھلے ہفتے کے آخر میں ان ممالک نے ہنگامی اجلاس بھی بلایا تھا۔ بلغاریہ میں تقریباﹰ 60,000 سور اس وباء کی وجہ سے ختم کیے گئے ہیں۔
یورپی کمیشن کے مطابق صورتحال تشویشناک ہے کیونکہ بیماری اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو دیگر یورپی یونین کے ممالک تک بھی پھیل سکتی ہے۔ یورپی کمیشنر اسٹیلہ کریاکائیڈیس (صحت اور خوراک کی حفاظت) نے کہا ہے کہ متاثرہ ممالک کی مدد کے لیے مالی امداد فراہم کی جا سکتی ہے تاکہ وہ اس بحران سے نمٹ سکیں۔
یہ صورتحال بالکان اور دیگر یورپی یونین ممبر ممالک کے درمیان کشیدگی کا باعث بھی بنی ہے کیونکہ بیماری کے ممکنہ پھیلاؤ کے حوالے سے تشویش موجود ہے۔ یورونیو نیوز کے مطابق چند یورپی یونین ممالک کو خدشہ ہے کہ متاثرہ بالکان ممالک وباء کو کنٹرول کرنے میں پوری سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، اب دیگر یورپی ممالک جیسے کہ پولینڈ اور چیک جمہوریہ میں بھی خنزیر کی بیماری کے نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
مالی معاوضے کی درخواست ایسے وقت کی گئی ہے جب زراعت کا شعبہ عالمی وبا کی وجہ سے پہلے ہی شدید متاثر ہو چکا ہے۔ خنزیر کی اس وباء نے کسانوں کے کاروبار کو مزید مشکل بنا دیا ہے اور پولینڈ، رومانیہ، بلغاریہ اور بالکان ممالک میں مویشی پالن میں بھاری نقصانات ہوئے ہیں۔
معاشی نقصانات کے علاوہ، خنزیر کی بیماری کی وباء اس خطے میں خوراک کی فراہمی کے لیے بھی خطرہ ہے۔ ہزاروں سوروں کے ذبح کیے جانے سے خنزیر کے گوشت کی کمی ہو سکتی ہے اور صارفین کے لیے قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔

