یہ سزا دونوں بھائیوں کے فارم پر جاری کارروائی کے بعد دی گئی۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ انہوں نے جان بوجھ کر اور بار بار حیوانات کی فلاح و بہبود کے قوانین کی خلاف ورزی کی۔ سب سے افسوسناک واقعات میں بطخوں کے پر کاٹنا شامل تھا، جنہیں بعد ازاں شکاری جانوروں کو کھلایا گیا۔
یہ پہلی بار نہیں ہے کہ بھائی جانوروں کے ساتھ ظلم کی وجہ سے قانون کی زد میں آئے ہیں۔ پہلے بھی ان کے خلاف ظالمانہ سلوک کے کیسز پر مقدمات اور جرمانے عائد کیے گئے تھے۔ اس بار جج نے انہیں عمر بھر جانوروں کے ساتھ کام کرنے پر پابندی بھی لگا دی ہے۔
یہ کیس ڈینمارک میں شدید غم و غصے کا باعث بنا ہے۔ جانوروں کے حقوق کی تنظیموں نے اس سزا کو پولٹری انڈسٹری میں ہونے والی زیادتیوں کو برداشت نہ کرنے کا ایک اہم پیغام قرار دیا ہے۔ ڈینش سیاست میں حال ہی میں جانوروں کے حقوق کے قوانین کو سخت اور وسیع کرنے پر اتفاق رائے پیدا ہوا ہے۔
یہ کیس سخت قوانین اور ان کے نفاذ کی اہمیت کو واضح کرتا ہے تاکہ زیادتیوں کو روکا جا سکے اور جانوروں کو ظلم سے بچایا جا سکے۔ ڈینش پولٹری فارمرز کے خلاف فیصلہ جانوروں کے حقوق کے کارکنوں کے لیے ایک اہم فتح ہے اور زراعتی شعبے میں جانوروں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کو ظاہر کرتا ہے۔
بھائیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔ ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ سزائیں زیادہ سخت ہیں اور الزام ثابت کرنے کے لیے کافی شواہد نہیں ہیں۔ ان کی مخالفت کے باوجود ان سے جانوروں کے ساتھ کام کرنے کے تمام حقوق چھین لیے گئے ہیں۔
وائبورگ کے یہ بھائیوں کو جانوروں کے ساتھ تعلق رکھنے کا حق دینا روکنا تاریخی ہے، مگر اگر وہ اپیل کریں گے تو اس کا اثر مؤخر ہوجائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی بھی فیصلے کا اطلاق تب تک نہیں ہوگا جب تک سپریم کورٹ اپنا فیصلہ نہ دے، اور یہ عمل طویل ہوسکتا ہے۔

