برسلز زرعی آفتوں کے فنڈ میں موجود مالی ذخائر میں 300 ملین یورو کا اضافہ کرنا چاہتا ہے۔ اس سے کل رقم تقریباً 500 ملین یورو ہو جائے گی۔ یورپی کمیشن توقع کرتا ہے کہ EU ممالک اپنی حمایت کے اقدامات کے تحت اس میں اضافی رقم بھی شامل کریں گے۔
مہنگی کھاد
یہ اقدام مہنگی کھاد کی قیمتوں میں شدید اضافے کے پیش نظر کیا جا رہا ہے۔ یورپی کمیشن کے مطابق، 2024 سے کھاد کی قیمتوں میں سخت اضافہ ہوا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں حالیہ تبدیلیاں اور خلیج فارس کے ذریعے اہم تجارتی راستوں میں خلل نے اس میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ کھاد کی پیداوار کے لیے بہت زیادہ توانائی کی ضرورت ہوتی ہے، جیسے تیل اور گیس، جو اکثر مشرق وسطیٰ سے آتی ہے۔
بہت سے کسانوں کے لیے کھاد کی قیمتیں کل اخراجات کا بڑا حصہ ہوتی ہیں، جس سے ان کے کاروبار پر براہ راست دباؤ پڑتا ہے۔ کچھ کسان اضافی لاگت برداشت کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں اور وہ اسے ہمیشہ صارفین پر منتقل بھی نہیں کر پاتے۔
Promotion
ایڈوانس ادائیگیاں
مالی امداد کے علاوہ، کمیشن مشترکہ زرعی پالیسی میں مزید لچک فراہم کرنا چاہتا ہے۔ یورپی یونین کے ممالک آسانی سے کسانوں کو ایڈوانس ادائیگیاں دے سکیں گے۔ ایک نئی اسکیم بھی تیار کی جا رہی ہے جو زرعی کاروباروں کی نقدی بحران سے نمٹنے میں مدد دے گی۔
یہ امدادی اقدامات ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ کمیشن نے پہلے ہی درآمدی کھاد پر انحصار کم کرنے کے لیے منصوبے پیش کیے ہیں تاکہ یورپ میں متبادل اور زیادہ پائیدار کھاد کی پیداوار کو فروغ دیا جا سکے۔
کافی نہیں
ادھر اضافی اقدامات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ زرعی تنظیمیں ظاہر کرتی ہیں کہ موجودہ قیمتوں میں اضافہ بہت سے کھیتوں کو متاثر کر رہا ہے اور وہ خوف زدہ ہیں کہ مسلسل بڑھتی قیمتیں زرعی پیداوار پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔ اس لیے وہ فوری اور اضافی اقدامات کا مطالبہ کر رہی ہیں، جیسے کہ CBAM درآمدی جرمانہ جو غیر EU ممالک سے کھاد پر عائد ہے اسے ختم کرنا۔
کمیشن کے مطابق، یہ ضروری ہے کہ کسانوں پر دباؤ مزید نہ بڑھے کیونکہ ان کی معاشی حالت مشکل میں ہے اور مسلسل بڑھتی لاگت یورپ میں خوراک کی پیداوار پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
تجویز کردہ اقدامات کو نافذ کرنے سے پہلے انہیں یورپی قانون سازوں کی منظوری حاصل کرنا ہوگی۔ اس کے بعد ہی اضافی فنڈز واقعی زرعی شعبے کے لیے دستیاب ہو سکیں گے۔

