یورپی قوانین لکڑی اور نباتاتی مواد کو بجلی گھروں میں ایندھن کے طور پر استعمال کرنے کے لیے سخت ہو رہے ہیں۔ یورپی کمیشن اس کے ذریعے جنگلات میں پرانے درختوں کی کٹائی روکنا چاہتا ہے۔ لیکن یورپی کمیشن کے ارکان بایوماس سینٹرلز میں لکڑی جلانے کو ماحولیاتی طور پر نقصان دہ قرار دینا نہیں چاہتے۔
یورپی کمیشن 'ممنوعہ کٹائی کے علاقے' کو بڑھانا چاہتا ہے تاکہ اب پرانے جنگلات اور دلدلی علاقے بھی ان 'نو-گو ایریاز' کے تحت آئیں۔ اسی طرح چھوٹے بجلی گھروں کو بھی جلد ہی سخت قوانین کا دائرہ کار بنانا ہے۔ یہ بات فینانسیئل ڈیگ بلیڈ کے مطابق ایک تجویز میں شامل ہے جو یورپی کمیشن دو ہفتوں کے بعد پیش کرے گا۔
EU (یورپی یونین) باقی لکڑی جلانے کو قابل تجدید توانائی سمجھتی ہے اور اسے موسمیاتی اہداف پورے کرنے کے لیے درکار بھی سمجھتی ہے۔ یہ منصوبے نی덼رلینڈ کے حوالے سے اہم ہیں، جہاں حال ہی تک بایوماس سینٹرلز کی تعمیر اور آپریشن کے لیے دس ارب یورو سے زیادہ سبسڈی دی جاتی رہی ہے۔
گزشتہ سال نی덼رلینڈ میں بجلی گھروں کے لیے ایندھن کے طور پر درختوں کے تنا جلانے سے قابل تجدید توانائی کی نصف سے زیادہ توانائی حاصل ہوئی۔
نی덼رلینڈ میں لکڑی جلانے کا موضوع کئی سالوں سے بحث کا مرکز رہا ہے۔ اسی وجہ سے 'اچھے' لکڑی کے لیے نشان لگائے جا چکے ہیں۔ بہت سے لوگ درختوں کو کاٹنے اور جلانے کو بالکل بھی پائیدار نہیں سمجھتے۔ اس قسم کی بحث دوسرے EU ممالک میں اب تک کم دیکھی گئی ہے۔

