برسلز نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ہر معاہدے میں کیف کے لیے سلامتی کی ضمانتیں شامل ہونی چاہئیں اور یوکرین خود امن مذاکرات کی میز پر موجود ہونا چاہیے۔
یورپی رہنما خبردار کرتے ہیں کہ یوکرین اور روس کے درمیان زمین کے تبادلے کے لیے پیش کردہ تجاویز کیف کی سلامتی کو شدید متاثر کر سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر معاہدہ موجودہ محاذوں سے شروع ہونا چاہیے نہ کہ علاقے چھوڑنے سے۔
یورپی اتحادیوں کے اعلیٰ عہدیداروں نے کہا کہ روس کی جانب سے علاقائی تبادلے کی تجویز زیادہ تر ماسکو کے حق میں ہے۔ یوکرین کے لیے سلامتی کی ضمانتوں کو زمین کے تبادلے سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ یہ موقف ٹرمپ-پوٹن سربراہ اجلاس سے قبل واشنگٹن کو واضح کر دیا گیا ہے۔
ٹرمپ اور پوٹن کے درمیان مجوزہ سربراہ اجلاس جمعہ کو الاسکا میں منعقد ہوگا۔ یورپی رہنما اس بات پر فکر مند ہیں کہ یوکرین کی شمولیت کے بغیر کوئی معاہدہ ملک کو کمزور کر دینے والے اواقف کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ وہ عمل کے تمام مراحل میں کیف کی براہ راست شرکت کے لیے زور دے رہے ہیں۔
کاجا کالاس، یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ، نے زور دیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی بھی معاہدہ یوکرین اور یورپی یونین دونوں کی حمایت سے ہونا چاہیے۔ انہوں نے پیر کو یورپی یونین کے خارجہ امور کے وزرائے اجلاس کو بلایا ہے تاکہ اگلے اقدامات پر گفتگو کی جا سکے۔
اتوار کو جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں یورپی رہنماؤں نے ٹرمپ سے اپیل کی ہے کہ وہ روس پر مزید دباؤ ڈالیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ماسکو نہ صرف جنگ بندی پر اتفاق کرے بلکہ ایسے قانونی سلامتی معاہدے بھی کرے جو یوکرین کو آئندہ حملوں سے بچائیں۔
یورپی یونین کی جانب سے ٹرمپ کو دی جانے والی یہ اپیل واشنگٹن کو یورپی شراکت داروں اور یوکرین کے بغیر معاہدہ کرنے سے روکنے کے لیے ہے۔ یورپی رہنما خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ امریکہ اور روس کے درمیان دوطرفہ معاہدہ تنازعہ کو ایسے انداز میں منجمد کر سکتا ہے جو خاص طور پر ماسکو کے حق میں ہو۔

