فون ڈیر لائیئِن نے حالیہ انٹرویوز میں زور دیا کہ یورپی یونین ایسی دنیا میں زندگی گزار رہی ہے جہاں معروف ٹرانس اٹلانٹک تعلقات دباؤ میں ہیں۔ ان کے بقول صدر ٹرمپ کے معاشی اقدام مغربی اتحادیوں کے درمیان تقسیم کو جنم دیتے ہیں۔ یہ نئی حقیقت یورپی یونین کو بین الاقوامی شراکت داریوں اور تجارتی تعلقات پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
فون ڈیر لائیئِن نے کہا کہ یورپی یونین کو اپنا نظریہ وسیع کرنا چاہیے اور خاص طور پر ایشیا اور افریقہ میں نئے تجارتی شراکت داروں کی تلاش کرنی چاہیے۔ انہوں نے سنگاپور کو ہم خیال شراکت دار کی مثال کے طور پر پیش کیا، جس کے ساتھ یورپی یونین قریبی تعلقات قائم کرنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور برطانیہ کے موجودہ تجارتی معاہدے بھی وسعت دیے جا سکتے ہیں۔
ساتھ ہی، یورپی کمیشن زور دیتی ہے کہ یورپی یونین کے ممالک اپنی داخلی تجارت کو مضبوط کریں۔ اس طرح وہ یورپی یونین سے باہر ‘‘تیسرے ممالک’’ سے ضروری اشیاء کی انحصار کم کر سکتے ہیں۔ فون ڈیر لائیئِن نے کہا کہ یہ عالمی سطح پر حالیہ پابندیوں اور سیاسی کشیدگیوں کے پیش نظر ایک اسٹریٹجک ضرورت بن چکی ہے۔
اگرچہ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ یورپی مصنوعات پر نئی درآمدی محصولات کے نفاذ کو تین ماہ کے لیے مؤخر کیا جا رہا ہے، فون ڈیر لائیئِن اسے صرف عارضی ریلیف سمجھتی ہیں۔ ان کے مطابق خطرہ برقرار ہے اور یورپی یونین اپنے مفادات کے دفاع کے لیے مناسب اقدامات تیار رکھتی ہے اگر ضرورت پیش آئے۔
کمیشن کی سربراہ نے مزید کہا کہ مسابقتی منظرنامہ تبدیل ہو چکا ہے۔ دونوں، امریکہ اور چین، دنیا کے بازاروں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں۔ فون ڈیر لائیئِن کے بقول اس لیے یورپ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اقتصادی طور پر زیادہ خود مختار اور جغرافیائی سیاسی طور پر مضبوط ہو جائے۔
سنگاپور کے حالیہ دورے کے دوران، فون ڈیر لائیئِن نے اس ملک کو ایک قابل اعتماد اور جدید تجارتی شراکت دار کے طور پر سراہا۔ انہوں نے مشترکہ مفادات جیسے ڈیجیٹلائزیشن، پائیداری اور کھلے بازاروں کی نشاندہی کی۔ یورپی کمیشن ایسے ممالک کے ساتھ قریبی تعاون کو یورپی اقتصادی سمت کو وسیع اور مستحکم کرنے کا ایک طریقہ سمجھتی ہے۔

