دروزھبا پائپ لائن روسی تیل کے میدانوں کو متعدد یورپی ممالک سے جوڑتی ہے۔ ہنگری اور سلوواکیہ کے لیے یہ رابطہ توانائی کا ایک بنیادی ذریعہ ہے۔ حملے کے بعد سے ان کی فراہمی مکمل طور پر بند ہو چکی ہے۔ ہنگری اور سلوواکیہ نے برسلز سے اپنی توانائی کی سلامتی کی ضمانت اور ایسے حملوں کی دوبارہ روک تھام کے لیے تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔
یورپی یونین نے روسی تیل اور گیس پر درآمدی پابندی عائد کی ہے، لیکن ہنگری اور سلوواکیہ کو عارضی استثناء دیا گیا ہے۔ ان ممالک کو وقت دیا گیا تھا کہ وہ روسی توانائی پر اپنی انحصار کو بتدریج کم کریں۔ تاہم حالیہ یوکرینی حملے کے باعث وہ اچانک کٹ گئے ہیں اور انہیں سنگین اقتصادی و سماجی نتائج کا خدشہ ہے۔
ہنگری اور سلوواکیہ کے لیے اس کا فوری اثر بہت بڑا ہے، مگر دیگر ممالک بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دونوں حکومتوں کے مطابق اس حملے سے ان کی قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یورپی ادارے ان کے مفادات کا دفاع کرنے کے پابند ہیں۔
یوکرین نے اس دوران زور دیا ہے کہ اس نے کئی سالوں سے روسی قبضے کے خلاف جدوجہد میں یورپ کی بہت مدد حاصل کی ہے، جبکہ یورپی کمپنیاں روس کے ساتھ کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ روسی زرعی اور غذائی مصنوعات کی مسلسل درآمد کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی گئی ہے۔ یہ تضاد تعلقات میں تناؤ پیدا کرتا ہے۔
یورپ کے باہر بھی اس حملے پر ردعمل سامنے آئے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے یوکرینی کارروائیوں پر شدید غصہ ظاہر کیا۔ انہوں نے تنقید کی کہ روسی علاقے میں واقع وہ پائپ لائن جو مغرب کو تیل فراہم کرتی ہے، یوکرینی ڈرونز کے نشانے پر تھی۔
دروزھبا پائپ لائن پر حملہ گزشتہ واقعات کی یاد دلاتا ہے۔ اس ہفتے کے آغاز میں اٹلی میں ایک یوکرینی فوجی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس پر مشتبہ ہے کہ وہ قریب تین سال پہلے روسی-جرمن نارڈ سٹریم 1 اور 2 پائپ لائنوں میں بم دھماکوں میں ملوث تھا جو بحیرہ بالٹک میں ہوئی تھیں۔ اس حملے نے اس وقت روس سے یورپ کو توانائی کی بڑی برآمدات کو اچانک بند کر دیا تھا۔

