یہ معاہدہ مستقبل کی سبز ٹیکنالوجیز کے لیے مارکیٹ کی حفاظت کو روکنے کے لیے ہے۔ یورپی یونین کے ممالک ابتدائی شرائط کو امریکی پروٹیکشن ازم سمجھتے ہیں۔
اس معاہدے کے تحت یورپی یونین اور امریکہ ایک دوسرے کو سبز ٹیکنالوجیز کی ترقی میں برابر کے شراکت دار کے طور پر تسلیم کریں گے، یعنی وہ ایک دوسرے کو اب مقابل نہیں سمجھیں گے۔ اس سے صاف توانائی، پائیدار نقل و حمل اور دیگر سبز ٹیکنالوجیز کے میدان میں دونوں اقتصادی بلاکس کے درمیان مزید تعاون متوقع ہے۔
یورپی یونین اور امریکہ نے اتفاق کیا ہے کہ وہ مل کر ایسے طریقہ کار پر عمل کریں گے جس سے سبسڈیوں کی وجہ سے دونوں اقتصادی بلاکس کے درمیان مقابلہ خراب نہ ہو۔ اس طرح وہ اس بات سے بھی بچنا چاہتے ہیں کہ چین امریکی-یورپی مقابلے سے فائدہ اٹھا سکے۔
یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان اس معاہدے کی پیش رفت سبز ٹیکنالوجی پر کام کرنے والی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے لیے خوشخبری ہے۔ یہ معاہدہ زیادہ یقینی اور پیش گوئی کے قابل ماحول فراہم کرتا ہے۔ "یہ یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان صاف توانائی اور موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہے،" یورپی کمیشن کے ایک ترجمان نے کہا۔
یہ معاہدہ امریکی صدر جو بائیڈن اور یورپی کمیشن کی چیئرپرسن ارزولا فان ڈیر لیین کے درمیان ملاقات کے بعد اعلان کیا گیا۔ اس ملاقات میں یورپی یونین اور امریکہ کے تجارتی تعلقات اور موسمیاتی تبدیلی کے بین الاقوامی تعاون کے مستقبل پر بھی بات چیت ہوئی۔

