اس طرح یورپی کمیشن نے 13 یورپی یونین کے ممالک، جن میں نیدرلینڈز بھی شامل ہے، کی درخواست کو مسترد کیا ہے، جس میں پولش اور رومانی فصل کی غیر قانونی سرحدی بلاکڈاؤنز کے باعث ’بلیک میل‘ کے سامنے نہ جھکنے کی بات کی گئی تھی۔
گزشتہ ماہ جلد بازی میں عائد کی گئی برآمدات پر پابندی آج ختم ہو رہی تھی۔ حالیہ یورپی یونین کے زرعی کونسل اجلاس میں کمشنر یانوش ووئیچخوسکی نے کہا تھا کہ وہ سرحدوں کو فوری طور پر مکمل طور پر دوبارہ کھولنا نہیں چاہتے بلکہ اگلی فصل کے بعد ہی اس کا ارادہ رکھتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے انہوں نے 2021 اور 2022 کے درآمد و برآمد کے اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یوکرینی ’برآمدات‘ پولینڈ، رومانیہ، ہنگری، سلوواکیہ اور بلغاریہ کی طرف ’غیر متناسب طور پر‘ بڑھ گئی ہیں، اور ان ممالک میں جو شکایات تھیں ان کے بہت سے جائز اسباب تھے۔
برسلز کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ توسیع وسط ستمبر تک مؤثر رہے گی اور بیجوں پر اب اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔ یوکرین کے وزیر زراعت و خوراک میکولا سولسکی نے پہلے اشارہ دیا تھا کہ کیف ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن WTO میں کسی شکایت کے ذریعے بھی معاملہ لے جا سکتا ہے۔
سولسکی نے کہا کہ اُن کا ملک تمام ممکن کوششیں کر رہا ہے تاکہ ہمسایہ ممالک کے ذریعے سامان کی ترسیل جتنا بہتر ممکن ہو سکے ہو۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ روس اب بھی مختلف طریقوں سے بلیک سی کے ذریعے یوکرینی برآمدات کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

