IEDE NEWS

’EU کو WTO کی جانب سے خوراک کی درآمد پر سخت شرائط عائد کرنے کی اجازت ہے’

Iede de VriesIede de Vries
مارکٹ ہال میں ایک دکان میں سبزیوں کا قریبی منظر

یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ نا EU ممالک سے خوراکی مصنوعات کی درآمد پر ماحولیاتی اور موسمیاتی محصولات سخت کرنا عالمی تجارتی تنظیم WTO کے قانونی ضوابط کے خلاف نہیں ہے۔ اس کے ساتھ یورپی کمیشن پہلی بار ‘آئینہ شقوں’ کے نفاذ کے بارے میں مثبت اشارہ دے رہا ہے جو تجارتی معاہدوں میں شامل کی جاتی ہیں۔ 

زرعی کمشنر یانوش ووجچیخوسکی نے 27 زرعی وزرا کو سوموار کو لکسمبرگ میں اس بات کی تجویز دی کہ اب 'معاملہ بہ معاملہ' بنیاد پر اس چھان بین کو آزمایا جائے۔ یورپی کمیشن کی ایک متعلقہ تشخیصی رپورٹ حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ یورپی کمیشن وزرا کو اس مشاورت کے بارے میں معلومات دے گا جو جنوری سے مارچ کے درمیان متعلقہ فریقوں کے ساتھ منعقد کی گئی تھی۔

طویل عرصے سے کسانوں اور مویشی پالنے والوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر EU ممالک سے سستی خوراک پر مساوی پیداواری معیارات یا اضافی محصولات عائد کیے جائیں، تاکہ اپنی یورپی منڈی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ مگر WTO نے ایسی ‘درآمدی جرمانوں’ کے نفاذ کو منع کیا ہے کیونکہ یہ ’مقابلے کو متاثر کرنا‘ اور ’اپنی کمپنیوں کو ترجیح دینا‘ سمجھا جاتا ہے۔

لیکن اب جب یورپی یونین گرین ڈیل اور فارم سے فورک نئے معیارات متعارف کرا رہا ہے جو جانوروں کی فلاح و بہبود، حیاتیاتی تنوع اور صحت کے لیے ہیں، تو EU ایسے موسمیاتی معیارات درآمدی خوراک کے لیے بھی نافذ کرنا چاہتا ہے۔ اور اگر ممالک ان پر پورا نہیں اتر سکتے یا اترنا نہیں چاہتے، تو EU اضافی محصولات لگا کر ’مساوی مقابلے‘ کا ماحول قائم کرے گا۔

آسٹریائی یورپی پارلیمانی رکن سیمونے شمیدٹ باور (ÖVP/EVP) اسے ایک ’مرحلہ وار کامیابی‘ قرار دیتی ہیں۔ پہلی بار یورپی کمیشن نے تجارتی معاہدوں میں ’آئینہ شقوں‘ کے لیے مثبت اشارہ دیا ہے۔ خاص طور پر فرانس نے گزشتہ چھ ماہ میں اس پر مضبوطی سے زور دیا ہے۔ 

’یورپی کمیشن اب اس منصوبے کے خلاف نہیں ہے۔ یہ ایک مرحلہ وار کامیابی ہے جس پر ہم اپنی مزید کوششیں کریں گے،‘ یورپی پارلیمانی رکن کا کہنا ہے۔ ’اب وقت آ گیا ہے کہ یورپی کمیشن کسانوں کی تنظیموں کی اس مانگ کو سمجھے کہ یورپی فصلوں کے لئے پیداواری معیارات درآمد شدہ زرعی مصنوعات اور خوراک پر بھی لاگو ہونے چاہئیں،‘ شمیدٹ باور نے آسٹریائی کسانوں کی تنظیم STBB کی ویب سائٹ پر ایک مضمون میں وضاحت کی۔

قانونی حیثیت کی عملی جانچ کے لیے ’معاملہ بہ معاملہ جائزہ‘ ہونا چاہیے۔ نیدرلینڈز کے وزیر زراعت ہینک اسٹاگہور نے گزشتہ ہفتے ایک پارلیمانی خط میں کہا کہ وہ اس تجرباتی ’معاملہ بہ معاملہ‘ طریقہ کار کی حمایت بھی کرتے ہیں۔ 

تاہم، انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ قیمت کا تعین صرف معیار سے نہیں ہوتا بلکہ ہر ملک کی مختلف صورتحال بھی اثرانداز ہوتی ہے۔ ’ساتھ ہی دیگر عوامل جیسے بنیادی ڈھانچہ، علم اور مزدوری کی لاگت بھی کمپنیوں کی حتمی مسابقتی پوزیشن پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں دیکھنا ہوگا کہ WTO کے کثیرالجہتی فریم ورک میں کیا ممکن ہے اور کون سے اقدامات مناسب ہیں،‘ اسٹاگہور نے اپنے پارلیمانی خط میں کہا۔

’درآمد شدہ مصنوعات کے لیے بھی وہی پیداواری معیارات — یہی مقامی کسانوں کا مطالبہ ہے اور وہ اس کے مستحق ہیں۔ یہ یورپی کسانوں کی مسابقت کو مضبوط کرتا ہے اور زرعی تعاون کے علاقوں میں ایک نمایاں پیشرفت کا باعث بنتا ہے۔ صارفین، جانور، ماحول اور موسم کا تحفظ ہوتا ہے، اور سب سے اہم بات یہ کہ ہم خود کسان بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں،‘ شمیدٹ باور کہتے ہیں۔

یہ مضمون Iede de Vries نے لکھا اور شائع کیا ہے۔ ترجمہ اصل ڈچ ورژن سے خودکار طور پر تیار کیا گیا۔

متعلقہ مضامین