ہالینڈ یورپی یونین کے ماحولیاتی کونسل میں مختلف سبسڈیز، مراعات اور ٹیکس چھوٹ کو یورپی یونین کی سطح پر ختم کرنے کی وکالت کرے گا جو کہ بڑے کاروباروں میں فوسل ایندھن کے استعمال کے لیے دی جاتی ہیں۔
ماحولیاتی وزیر راب جیٹن (D66) نے ایک پارلیمانی خط میں بتایا ہے کہ ہالینڈ اکیلے یہ اقدام نہیں کر سکتا کیونکہ وہ بین الاقوامی ٹیکس اور توانائی کے معاہدوں سے بندھا ہوا ہے۔ وزیر جیٹن نے گزشتہ جمعہ کو وزیر کونسل اجلاس سے قبل کہا کہ کچھ سبسڈیز کو جلدی ختم کیا جا سکتا ہے، جبکہ دیگر کے لیے زیادہ وقت درکار ہوگا۔
وزیر کے مطابق بہت سی سبسڈیز بین الاقوامی سطح پر کم کرنی ہوں گی، ’اس لیے ایک بہت وسیع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔‘ اسی وجہ سے وہ سمجھتے ہیں کہ نئے یورپی ماحولیاتی کمشنر ووپکے ہویکسٹرا کو اس مسئلے کو دسمبر کے آغاز میں متحدہ عرب امارات میں منعقد ہونے والی عالمی COP28 کانفرنس میں بین الاقوامی سطح پر اٹھانا چاہیے۔
حال ہی میں معلوم ہوا کہ ہالینڈ ہر سال 40 سے 60 بلین یورو کے درمیان ٹیکس فوائد ایسے کاروباروں کو دیتا ہے جو تیل، گیس اور کوئلے کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ کاروبار بڑے اسٹیل فیکٹریاں، اندرون ملک بحری جہاز رانی، گلاس ہاؤس کی کاشتکاری، کوئلہ بجلی گھر اور تیل کی ریفائنریاں شامل ہیں۔ ہوائی کمپنیوں کو ہالینڈ میں کیروسین پر کوئی ٹیکس نہیں دینا پڑتا، جو انہیں سالانہ تقریباً 2 بلین یورو کا فائدہ دیتا ہے۔
پارلیمنٹ کی اکثریت کا خیال ہے کہ فوسل ایندھن کی سبسڈیز کو ختم کیا جانا چاہیے۔ دوسرے ممالک بھی اپنے کاروباروں کو ایسی سبسڈیز دیتے ہیں۔ اگر ہالینڈ اکیلا یہ سبسڈیز ختم کر دے تو کاروبار ہالینڈ چھوڑ سکتے ہیں۔
ماحولیاتی تنظیمیں، جیسے کہ ایکشن گروپ Extinction Rebellion، نے حالیہ دنوں میں احتجاجی کارروائیاں کیں جن میں ڈین ہاگ میں A12 ہائی وے کا قبضہ بھی شامل تھا۔

