اس ہفتے یورپی یونین کے ممالک ایک بار پھر مفاہمت کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کامیابی خاص طور پر اس بات پر منحصر ہے کہ کونسا موقف زیادہ وزن رکھتا ہے: وہ کمپنیاں جو کہتی ہیں کہ مزید تاخیر نقصان دہ ہے، یا وہ ممالک جو سمجھتے ہیں کہ نفاذ کو پہلے بہتر طریقے سے منظم کیا جانا چاہیے۔
مختلف شعبوں کی بڑی کمپنیاں یورپی یونین کے 27 ممالک کی حکومتوں پر زور دے رہی ہیں کہ قانون کو مزید موخر نہ کیا جائے۔ ان کے مطابق بار بار تاخیر سے غیر یقینی صورتحال بڑھتی ہے: کمپنیاں اس معاملے میں الجھن کا شکار ہوتی ہیں اور پائیدار پیداوار کی زنجیروں میں کم سرمایہ کاری کرتی ہیں۔
اسی وقت کچھ یورپی ممالک اس موقف سے مختلف ہیں۔ جرمنی نے ہفتوں کی خاموشی کے بعد ایک سال کی تاخیر اور اس کے بعد پورے قانون کی دوبارہ شروعات کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ تجویز آسٹریا کے ایک سابقہ خیال کے بہت قریب ہے اور یورپی کمیشن کی پیش کردہ تجاویز سے بھی زیادہ آگے جاتی ہے۔
جرمنی ان کمپنیوں کے لیے بھی نرم قوانین چاہتا ہے جو کئی قسم کی سرگرمیاں یکجا کرتی ہیں، جیسے ہوٹل جو جنگلات کی زمین بھی سنبھالتے ہیں۔ جرمنی کا خیال ہے کہ خصوصاً چھوٹی کمپنیاں اور ملا جلا کاروبار اگر یہ قانون بغیر تبدیلی کے نافذ ہوتا ہے تو زیادہ متاثر ہوں گے۔
چونکہ جرمنی اب تاخیر کی حمایت کر رہا ہے تو یورپی یونین کے ممالک کی کونسل میں تاخیر اور قانون کو دوبارہ کھولنے کے لیے اکثریت نظر آتی ہے۔ اس طرح موجودہ معاہدوں کے ٹکنے کا امکان کم ہوتا جا رہا ہے۔ تاہم واضح مخالف بھی موجود ہیں: فرانس اور اسپین نے اس ہفتے واضح کیا کہ وہ اضافی نرمی نہیں چاہتے۔
وہ کمپنیاں جو نئی تاخیر کے خلاف ہیں، کہتی ہیں کہ ہر سال کی تاخیر یورپ کے باہر پیدا کرنے والوں کو چھوڑ دیتی ہے۔ ان کے مطابق خام مال کے ذرائع والے ممالک میں پارٹنرز یورپی یونین کی پالیسیوں میں بار بار تبدیلی کی وجہ سے رک جاتے ہیں۔
مذاکرات میں نفاذ کے حوالے سے خدشات بھی سنائی دیتے ہیں: بعض ممالک کو خوف ہے کہ چھوٹے کاروبار کاغذی کارروائی میں پھنس جائیں گے اور یورپی نظام تمام ڈیٹا کو سنبھالنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس سے پریشانیوں کو حل کیے بغیر قانون کے مکمل نفاذ پر دباؤ پڑ رہا ہے۔
یہ اختلافات واضح کرتے ہیں کہ یورپی یونین کے ممالک میں شدید تقسیم ہے۔ ایک گروہ ترقی اور سب کے لیے واضح قواعد چاہتا ہے، جبکہ دوسرا گروہ نفاذ کو آسان بنانے تک مزید پیش رفت نہیں چاہتا۔ اسی تضاد کی وجہ سے اس ہفتے سفارت کاروں کو کوئی معاہدہ حاصل نہیں ہوا۔

