سن 2022 سے یوکرین تقریباً تمام زرعی مصنوعات بغیر درآمدی محصولات کے یورپی یونین کو برآمد کر سکتا ہے۔ یہ فیصلہ روس کی جانب سے خطرہ لاحق ملک کی اقتصادی مدد کے لیے کیا گیا تھا۔ نئے معاہدے میں یہ استثنات زیادہ سے زیادہ مقدار اور کوٹہ سے بدل دیے جائیں گے۔
مختلف فصلوں اور خوراکی مصنوعات کے لیے آئندہ ایک سال میں بغیر محصول کے برآمد کی زیادہ سے زیادہ حد مقرر کی جائے گی۔ برسلز اسے ایک سمجھوتہ کے طور پر پیش کرتا ہے جو یوکرین کی مدد کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کے کسانوں کا تحفظ بھی فراہم کرتا ہے۔
یہ پانچ مشرقی یورپی ممالک اس تبدیلی کو ناکافی سمجھتے ہیں۔ وہ مزید پابندیوں کا مطالبہ کرتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں کہ ان کا زرعی شعبہ ناجائز نقصان اٹھا رہا ہے۔ خاص طور پر پولینڈ اور ہنگری نے گزشتہ چند مہینوں میں اپنے کسانوں کو تحفظ دینے کے لیے اضافی اقدامات کیے ہیں، اگرچہ انہیں یورپی یونین کی قواعد کی خلاف ورزی کی وارننگز بھی دی گئی ہیں۔
یورپی کمیشن نے تاہم اپنے پیش کردہ مسودے پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے اور اسے تبدیل کرنے سے انکار کیا ہے۔ کمیشن کا موقف ہے کہ یہ پیکج یوکرین کی مدد اور یورپی ممالک کے کسانوں کے مفادات کے درمیان محتاط توازن پر مبنی ہے۔
وزراء کونسل میں 27 رکن ممالک کو اس معاہدے کی باضابطہ توثیق اس ماہ کرنی ہے۔ چونکہ یہ پانچ ممالک اکثریت نہیں رکھتے، اس لیے امکان ہے کہ ان کی مخالفت عمل کو روکنے کے لئے کافی نہیں ہوگی۔ تاہم کشیدگی برقرار ہے، خاص طور پر جب کچھ ممالک مزید رکاوٹوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
ہنگری اس بحث کو وسیع تر سیاسی معاملات سے جوڑ رہا ہے۔ یہ ملک نہ صرف تجارتی معاہدے کے خلاف ووٹ دینے کی دھمکی دے رہا ہے بلکہ یوکرین کے ساتھ یورپی یونین میں شمولیت کے باضابطہ مذاکرات کو بھی روکنے کا عندیہ دے رہا ہے۔ یورپی یونین کی توسیع کے لیے اتفاق رائے ضروری ہے، جس کی بدولت بوداپیسٹ کے پاس فیصلہ کن موقف ہے۔

