یورپی یونین کے مالیاتی وزراء نے ایک ایسی حکمت عملی کی منظوری دی ہے جس کے تحت روسی ریاستی سرمایہ اب عارضی نہیں بلکہ غیر معینہ مدت کے لیے منجمد رہے گا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اس اقدام کو بار بار سیاسی طور پر بڑھانے کی ضرورت نہ پڑے۔
یہ تقریباً 210 ارب یورو کی روسی مرکزی بینک کی جمع پونجی ہے جو یورپی یونین کے اندر بینک اکاؤنٹس میں رکھی گئی ہے۔ یہ رقم پہلے ہی منجمد ہے اور اب وہ مسلسل روس کی رسائی سے دور رہے گی۔
اس رقم کا ایک بڑا حصہ، تقریباً 185 ارب یورو، مالیاتی ادارہ یوروکلئیر کے اکاؤنٹس میں رکھا گیا ہے۔ یہ ادارہ یورپی یونین کے اس فیصلے کی عملدرآمد اور قانونی اثرات میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔
جو مستقل منجمدگی اب تجویز کی گئی ہے، اس کا مقصد یوکرین کے لیے قرض یا مالی معاونت کا سلسلہ ممکن بنانا ہے۔ یورپی یونین خود یہ رقم تقسیم نہیں کرے گا، لیکن اس منجمدگی کو مالی معاونت کی بنیاد کے طور پر استعمال کرے گا۔
یورپی یونین کے اندر اس حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ کئی ممالک نے اس حکمت عملی کی قانونی حیثیت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور ممکنہ خطرات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
روس نے اس اقدام اور یوروکلئیر کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان اس سوال پر کشیدگی بڑھا رہا ہے کہ آیا یورپی یونین کا منصوبہ عدالت میں برقرار رہ پائے گا یا نہیں۔
یورپی کمیشن کہتا ہے کہ یہ تجویز قانونی طور پر مضبوط ہے اور مقدمات کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ اس کے مطابق یہ موجودہ یورپی یونین کے فریم ورک کے اندر ہی ہے اور بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی نہیں کرتی۔
یورپی یونین کے رہنما 18 دسمبر کو اپنی سربراہ اجلاس میں اس تجویز پر بات چیت کریں گے۔ اس بات کا ابھی تعین نہیں ہوا کہ ممکنہ قانونی کاروائیاں کس طرح نتائج دیں گی اور یوکرین کو دی جانے والی امداد پر ان کا کیا اثر پڑے گا۔

