یورپی یونین بچوں کے آن لائن جنسی استحصال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، لیکن نجی پیغامات کی لازمی نگرانی کو چھوڑ دیا ہے۔ برسوں کی بحث کے بعد اب بھی زور رضاکارانہ اقدامات اور عارضی قواعد پر ہے۔
صرف فحش انڈسٹری ہی انٹرنیٹ اور ٹیلی فونی چینلز کے ذریعے خفیہ پیغامات (انکرپشن) کا استعمال تصاویر اور ویڈیوز کے پھیلاؤ کے لیے نہیں کرتی، بلکہ مجرم بھی اپنے آپس کے رابطے جتنا ممکن ہو خفیہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یورپی یونین اس لیے بین الاقوامی انٹرنیٹ پراوائیڈرز (بڑے ٹیک کمپنیوں جیسے گوگل اور فیس بک کی طرح) پر رضاکارانہ شرائط عائد کرتی ہے، لیکن لازمی تقاضے بھی نافذ کرنے پر غور کر رہی تھی۔ ان میں سے ایک یہ ہو سکتا تھا کہ خفیہ ایپ ٹریفک کے مواد کو انٹرسیپٹ کیا جائے۔
تنقید کرنے والے اسے نجی زندگی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں جب بند پیغامات کو انٹرسیپٹ اور کھولا جائے؛ جبکہ دوسرے اسے معاشرے کے تحفظ کی ایک صورت کہتے ہیں۔ پیغامات کی لازمی نگرانی کا مجوزہ قاعدہ طویل عرصے تک رکاوٹوں کا باعث رہا۔
رکا ہوا عمل آگے بڑھانے کے لیے اب معتدل طریقہ اپنایا گیا ہے۔ لازمی تلاش نہ کی جائے گی، جبکہ پراوائیڈرز کو موقع دیا جائے گا کہ ممنوعہ مواد تلاش کریں اور اطلاع دیں۔
آن لائن خدمات کو خطرات کا اندازہ لگانا ہوگا اور ان کے سدباب کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس میں روک تھام، معلوم شدہ مواد کو ہٹانا اور متاثرین کی مدد شامل ہے۔
یورپی وزرائے اور یورپی پارلیمنٹ کے درمیان گفت و شنید ابھی جاری ہے۔ متضاد نقطہ نظر کو یکجا کرنا ہے، جو سخت حفاظتی اقدامات سے لے کر پرائیویسی اور انکرپشن کے سخت ضمانتوں تک پھیلا ہوا ہے۔ حتمی نتیجہ کیا ہوگا، یہ ابھی واضح نہیں ہے۔

