یورپی پارلیمنٹ میں مرکزِ بائیں بازو کی جماعتیں اس آپشن کو مسترد کرتی ہیں کہ پناہ گزین خاندانوں کو قید کیا جا سکتا ہے۔
یورپی پارلیمنٹ نے مہاجرین کی واپسی کے ضوابط کو سخت کرنے کے منصوبوں کی منظوری دی ہے۔ یہ تجاویز اخراج کو مؤثر بنانے کے لیے ہیں، لیکن اس سے سیاسی تقسیم بھی شدید ہو رہی ہے۔
یہ منصوبے اخراج کی تعداد بڑھانے اور اس کی تعمیل کو بہتر بنانے کی ایک وسیع کوشش کا حصہ ہیں۔ حمایتیوں کے مطابق یہ ضروری ہے تاکہ مہاجرت پر کنٹرول حاصل کیا جا سکے اور موجودہ قوانین کو عملی طور پر نافذ کیا جا سکے۔
Promotion
متنازعہ
اسی دوران یہ تجاویز سیاسی طور پر متنازعہ ہیں۔ یورپی پارلیمنٹ کے اندر اور EU کے ممالک میں اس طریقہ کار پر رائے مختلف ہے۔ جہاں کچھ ممالک اور جماعتیں سخت اقدامات کا مطالبہ کرتی ہیں، وہیں دوسروں اس کی مؤثریت اور نفاذ پر سوال اٹھاتے ہیں۔
حمایت خاص طور پر مرکزِ دائیں اور (انتہا پسند) دائیں بازو کی جماعتوں کی طرف سے آتی ہے۔ اس کے برخلاف مرکزِ بائیں اور بائیں بازو کی جماعتیں اس پالیسی کی سمت اور اس کے ممکنہ نتائج پر تنقید کرتی ہیں۔
تنقید کرنے والے خبردار کرتے ہیں کہ یہ منصوبے مہاجرین کے بنیادی حقوق کے لیے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔ وہ عمل تک رسائی، قانونی تحفظات اور فیصلے کرنے کے طریقہ کار سے متعلق خدشات کا اظہار کرتے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اپنی تشویش کا اظہار کرتی ہیں۔ ان کے مطابق مہاجرین ایسے حالات میں پھنس سکتے ہیں جہاں قانونی ضامن کم ہوں اور ان کے حقوق ہمیشہ محفوظ نہ ہوں۔
داخلے پر پابندی
تجاویز کا ایک اہم حصہ یہ امکان ہے کہ مہاجرین کو یورپی یونین سے باہر واقع واپسی مراکز میں منتقل کیا جائے۔ ان مراکز میں انہیں رکھا جائے گا جن کی پناہ گزینی درخواستیں نامنظور ہو چکی ہوں، تاکہ مزید واپسی کا انتظار کیا جا سکے۔
جو لوگ ایسے مراکز میں منتقلی سے انکار کریں گے، انہیں سخت سزاؤں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ان سزاؤں میں حراست اور یورپی یونین میں داخلے پر پابندی شامل ہو سکتی ہے۔
رائے شماری کے ذریعے یورپی پارلیمنٹ نے اس تجویز کو عملی جامہ پہنانے کے ایک قدم اور قریب پہنچا دیا ہے۔ اگلا مرحلہ EU کے ممالک کے ساتھ مذاکرات ہے تاکہ حتمی قانون کی تیاری کی جا سکے۔

