لیکن وزراء نے اپنے دو روزہ ماہانہ اجلاس میں لکسمبرگ میں 2028 کے بعد زرعی سبسڈیوں کے خاتمے کے حوالے سے کوئی موقف اختیار نہیں کیا، جیسا کہ (ابھی غیر منظور شدہ) برسلز کے سرکاری یادداشتوں میں تجویز کیا گیا ہے۔
سٹراسبرگ میں یورپی پارلیمنٹ نے کثیرسالہ مالیاتی فریم ورک (MFK) کے تحت یورپی یونین کے بجٹ کی ممکنہ تنظیم نو کے لیے راہ ہموار کی ہے، جیسا کہ حال ہی میں اطالوی سابق وزیراعظم ماریو ڈراغی نے تجویز دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ EU کو عالمی میدان میں اقتصادی طور پر زیادہ مقابلہ بازی کا حامل ہونا چاہیے، اور برسلز بہت سے امور اور اختیارات فردی EU ممالک کو ‘‘واپس بھیج’’ سکتا ہے۔
ایسی ‘‘دوبارہ قومی حیثیت’’ کئی پالیسی شعبہ جات میں قومی اسٹریٹجک منصوبوں (NSP’s) سے بہت مشابہت رکھتی ہے جو چند سالوں سے زرعی پالیسی میں نافذ کیے جا رہے ہیں۔ تاہم بہت سے زرعی وزراء محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ آسٹریا کے وزیر ٹوشنیگ نے کہا کہ یورپی زرعی پالیسی کو ‘‘کسی انقلاب’’ کی ضرورت نہیں، بلکہ یورپی کسانوں کو استحکام چاہیے۔
جرمن وزیر اوزدمیر نے کہا کہ ‘‘یہ مکمل MFK بحث غلط اجلاس کے ٹیبل پر آ گئی ہے۔’’ انہوں نے زور دیا کہ EU ممالک ابھی تک 2028 کے بعد ایسے کسی مستقبل کے منظرنامے پر کوئی بیان نہیں دے رہے۔
ایک اور حساس مسئلہ مرکسور ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدہ تھا۔ کچھ EU ممالک کا کہنا ہے کہ جنوبی امریکہ سے زرعی مصنوعات کی در آمد یورپی کسانوں کی مسابقتی پوزیشن کو دباؤ میں ڈال دے گی۔ خاص طور پر فرانس معاہدے کی توثیق روکنے کی دھمکی دے رہا ہے۔ جبکہ اسپین اور جرمنی جیسے دیگر EU ممالک اس بارے میں زیادہ معتدل نظر رکھتے ہیں۔
برسلز میں اب یہ تجویز سامنے آئی ہے کہ مرکسور سے واقعی نقصان اٹھانے والے کسانوں کے لیے ‘‘نقصان ازالہ سکیم’’ بنائی جائے۔ طاقتور زرعی تنظیم کوپا-کوگیچا نے اس تجویز کو پہلے ہی مسترد کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یورپی کمیشن نومبر میں G20 اجلاس میں مرکسور معاہدے کی باضابطہ توثیق کرنا چاہتا ہے۔ فرانسیسی کسانوں نے پہلے ہی دوبارہ کسان مظاہروں کی کال دی ہے۔

