برطانوی حکومت چاہتی ہے کہ یورپی یونین سے نکلنے کے تمام نئے قوانین چند دنوں کے اندر ہاؤس آف کامنز سے منظور کرا لیے جائیں۔ برطانوی پارلیمنٹریئنز منگل کو پہلی بار اس قانونی اثرات پر غور کریں گے جو بورس جانسن نے برسلز کے ساتھ طے شدہ خروج کے معاہدے کے تحت سامنے آئیں گے۔
ہاؤس آف کامنز میں حکومت کی نمائندگی کرنے والے کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ جیکب ریس موگ نے یہ منصوبہ بندی پیر کو جاری کی۔ اس منصوبہ بندی کے مطابق حتمی ووٹنگ جمعرات کو ہونی چاہیے، مگر واضح نہیں کہ ہاؤس آف کامنز اتنے کم وقت میں یہ سب کر پائے گا۔ پھر ہاؤس آف لارڈز کو بھی ان قوانین پر غور کرنا ہوگا۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ وزیر اعظم بورس جانسن کے پاس پورے پیکج کو پارلیمنٹ سے گزارنے کے لیے کافی سیاسی حمایت موجود ہے یا نہیں۔ ان کی کنزرویٹو پارٹی کے پاس اکثریت نہیں ہے، اور ان کی شمالی آئرلینڈ کی اتحادی جماعت ڈی یو پی اس پیکج کی حمایت نہیں کرتی۔ اس کے علاوہ، امکان ہے کہ پارلیمنٹریئنز ایسے ترامیم پیش کریں جو حکومت کے لیے ناقابل قبول ہوں۔
نہ صرف لندن میں برطانوی پارلیمنٹ میں، بلکہ سٹراسبرگ میں یورپی پارلیمنٹ میں بھی اس بات کی درخواستیں بڑھ رہی ہیں کہ برطانیہ کی یورپی یونین سے رخصتی کو دوبارہ برطانوی ووٹروں کے سامنے رکھا جائے۔ ناقدین کے مطابق اب زیادہ برطانوی شہری یہ بات سمجھ چکے ہیں کہ 2016 کے پہلے ریفرنڈم میں، یورپی یونین سے نکلنے کے نتائج ان کے تصور سے کہیں زیادہ سنگین ہیں۔
جانسن درحقیقت چاہتے تھے کہ پہلے پارلیمنٹریئنز یورپی یونین کے ساتھ معاہدے کو منظوری دیں اور اس کے بعد متعلقہ برطانوی قوانین کو۔ اس طرح وہ اس ڈیڈ لائن سے بچ سکتے تھے جو مخالف پارلیمنٹریئنز نے ان پر عائد کی تھی۔ مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے، جس کی وجہ سے انہیں گزشتہ ہفتے کے آخر میں یورپی یونین سے (دوبارہ) مہلت طلب کرنی پڑی۔
یورپی یونین اس درخواست پر غور کر رہی ہے، مگر ممکنہ طور پر اس هفته کے بعد ہی اس پر جواب دے سکے گی۔ ممکن ہے کہ یورپی یونین برطانویوں کو لمبی مہلت دے، شاید کچھ ماہ کی، تاکہ برطانوی آسانی سے اپنے قومی بریگزٹ قوانین کو مکمل کر سکیں۔

