یورپی پارلیمنٹ کی چیئرپرسن روبیرٹا میٹسولا نے اپنے افتتاحی بیان میں کہا کہ ہنگری کی صدارت ایسے وقت آتی ہے جب یورپی یونین "اہم پیش رفت" کر رہی ہے، جس میں "یوکرین کی حمایت، یورپی مقابلہ آرائی کو مضبوط بنانا، اور ایک مستحکم، محفوظ یورپ کی تعمیر" شامل ہیں۔
اوربان نے کہا کہ "یورپی یونین کو تبدیل ہونا چاہیے" اور مزید کہا کہ صورتحال 2011 کے سابقہ ہنگری صدارت کے مقابلے میں ‘‘کافی زیادہ سنگین’’ ہے۔ انہوں نے یوکرین جنگ، مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں بڑھتے ہوئے تنازعات، ہجرت اور شینگن خطے کے خطرات کی جانب اشارہ کیا۔
اوربان نے کہا کہ گزشتہ بیس سالوں میں یورپی یونین کی معاشی ترقی چین اور امریکہ سے بہت کم رہی ہے۔ روس سے سستی توانائی نہ لینے کی وجہ سے معاشی ترقی متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا: ‘‘ہمیں یہ بھولنا نہیں چاہیے کہ سبز تبدیلی خود مسئلے کا حل نہیں ہے۔’’
یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لین نے روس کے معاملے پر اوربان کے یکطرفہ رویے پر تنقید کی۔ ہنگری یورپی یونین کا واحد رکن ملک ہے جو روسی گیس خریدتا رہتا ہے۔ انہوں نے روسیوں کے لیے ہنگری کی ویزا پالیسی پر بھی تنقید کی جنہیں اضافی جانچ کے بغیر ہنگری اور اس کے ذریعے پورے یورپی یونین میں داخلے کی اجازت دی جاتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ "ہنگری کو حفاظتی خطرہ بناتا ہے، نہ صرف ہنگری کے لیے بلکہ تمام رکن ممالک کے لیے۔"
ہجرت کے حوالے سے اوربان نے خبردار کیا کہ ‘‘ہم بیرونی ہاٹ سپاٹس کے بغیر یورپی باشندوں کو غیر قانونی ہجرت سے محفوظ نہیں رکھ سکتے۔’’ ان کے بقول یورپی یونین کی پناہ گزینی کا نظام کام نہیں کر رہا۔
بیشتر یورپی پارلیمنٹ ممبران نے ہنگری کے وزیراعظم پر تنقید کی کہ وہ یورپی کونسل کی صدارت سنبھالے ہوئے جو کام کر رہا ہے اس کا منفی اثر ڈال رہے ہیں، یوکرین کی روسی جارحیت کے خلاف جنگ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں اور ماسکو اور بیجنگ کے غیر لبرل نظاموں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ اکثر یورپی سیاسی رہنماؤں نے ہنگری کے وزیراعظم کے یورپی یونین کی قدروں کے عدم احترام پر تشویش کا اظہار کیا نیز ہنگری میں بے لگام بدعنوانی کے الزامات بھی لگائے۔
تین ہالینڈ کے یورپی پارلیمنٹ ممبران نے بھی اوربان کی تقریر پر ردعمل دیا۔ گربن-جان گربرینڈی (D66) نے ہنگری میں غیر جمہوری رجحانات کی نشاندہی کی اور کہا: ‘‘کوئی بھی عقل مند یورپی اپنی مملکت کے لیے نہیں چاہتا جو آپ کی نااہلی نے ہنگری کے بہادر اور اچھے لوگوں کے ساتھ کیا ہے۔’’
یورپی پارلیمنٹ رکن ٹینیکے سٹرک (گروئن لنکس)، جو حال ہی میں ہنگری کی صورتحال پر رپورٹور مقرر ہوئی ہیں، نے کہا کہ ‘‘سچائی اوربان کے مفاد میں نہیں ہے۔ سچ یہ ہے کہ وہ یورپی یونین کی بنیادی قدروں کا بدعنوان، غیر وفادار اور بے رحم خلاف ورز ہے۔’’
CDA کے یورپ پارلیمنٹ رکن جیرون لینارس نے کہا کہ ‘‘ہم ہنگری کی عوام کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں گے ان کے سفر میں، تاکہ وہ ایک خودمختار، جدید، جمہوری اور یورپی ہنگری کی طرف بڑھ سکیں۔ تبدیلی ضرور آئے گی اور یہاں تک کہ مسٹر اوربان بھی اسے روک نہیں سکیں گے۔’’

