یورپی پارلیمنٹ میں اب گرین پارٹی نے روس کی ممکنہ جاسوسی اور اثر رسوخ کی تحقیقات کو بڑھانے اور اس میں چینی معاملے کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس مہینے کے شروع میں چیک خفیہ ایجنسی کے ذرائع سے معلوم ہوا کہ کچھ نام نہاد یورپی یونین سیاستدان ماسکو کے ادائیگی شدہ ترجمان ہو سکتے ہیں۔
یہ گرفتاری انتہائی مختصر وقت میں دوسری مرتبہ پیش آئی ہے جب دائیں بازو کے اے ایف ڈی یورپی پارلیمنٹ کے اراکین ملوث ہیں۔ اس مہینے کے شروع میں ان کے امیدوار پیٹر بائسترون پر روسیوں سے پیسے لینے کا الزام لگا تھا۔
ڈریسڈن سے تعلق رکھنے والے اے ایف ڈی سیاستدان کراہ 2019 سے یورپی پارلیمنٹ میں ہیں، اور ان کے معاون جیان جی بھی ان کے ساتھ ہیں۔ کراہ کے پاس جرمن شہریت ہے، مگر وہ چینی نسل کے ہیں۔
جرمن میڈیا کے مطابق ڈریسڈن کے اس کاروباری شخصیت کو جرمن سیکورٹی ادارے کافی عرصے سے جانتے ہیں: وہ تقریباً دس سال پہلے خود کو بطور اطلاع دہندہ پیش کر چکے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے جرمنی میں چینی اپوزیشن کے ارکان پر بھی نظر رکھی۔ جی بہت عرصے سے ان حلقوں میں سرگرم ہیں اور اس لیے آسانی سے معلومات حاصل کر سکتے تھے۔
جیان جی اس ہفتے جرمنی میں چینی جاسوسی کے سلسلے میں گرفتار کیے گئے چوتھے شخص ہیں۔ پیر کو ہی ہسن اور نارتھ رائن ویسٹ فیلن سے دو مرد اور ایک خاتون اسی الزام میں گرفتار ہوئے۔ فی الحال معلوم ہوتا ہے کہ یہ مقدمات آپس میں مربوط نہیں۔
بیئرلِن میں واقع چینی سفارتخانے نے ان الزامات کی تردید کی اور جرمنی پر زور دیا کہ وہ ‘‘جاسوسی کے الزامات کا سیاسی طور پر فائدہ اٹھانا بند کرے تاکہ چین کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہ ہو۔’’ یہ رپورٹ جرمن عوامی نشریاتی ادارے دویچ لینڈ فنک نے دی۔

