یورپی پارلیمنٹ نے گلاسگو میں حالیہ موسمیاتی سربراہی اجلاس میں کیے گئے معاہدوں کے کئی مثبت پہلو دیکھے ہیں۔ زیادہ تر یورپی پارلیمنٹریز گلاسگو کو ناکامی نہیں سمجھتے بلکہ اسے مثبت سمت میں ایک قدم سمجھتے ہیں۔ نیدرلینڈز کے یورپی پارلیمنٹریز اس حوالے سے بالکل مطمئن نہیں ہیں۔
موسمیاتی کمشنر فرانس ٹمرمانز کے مطابق واضح پیش رفت ہوئی ہے۔ دنیا کے پاس اب بھی موقع ہے کہ زمین کی اوسط درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود رکھا جائے۔ وہ ممالک جو ابھی تک پیرس اور گلاسگو کے معیارات پر پورا نہیں اترے، انہیں اگلے سال شرم الشیخ میں ہونے والے اجلاس میں زیادہ پرعزم قومی منصوبوں کے ساتھ واپسی کرنی ہوگی، کمشنر نے کہا۔
نیدرلینڈز کے صحافیوں کے سوالات کے جواب میں ٹمرمانز نے مباحثے کے بعد کہا کہ نئے یورپی موسمیاتی قوانین کا نیدرلینڈز پر بھی اثر پڑے گا اور ممکن ہے کہ اضافی کوششوں کی ضرورت ہو۔ وہ توقع کرتے ہیں کہ آئندہ حکومت کی حکمت عملی میں خاص طور پر زراعت، نقل و حمل اور تعمیرات میں فضائی آلودگی کے خلاف مزید پابندیاں شامل کی جائیں گی۔
کئی یورپی پارلیمنٹریز کا ماننا ہے کہ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزید کاروائی کی ضرورت ہے۔ اس وقت صرف یورپی یونین کے پاس موسمیاتی قانون اور 2030 کے لئے واضح اہداف کے حصول کے منصوبے موجود ہیں۔ کچھ یورپی پارلیمنٹریز نے کہا کہ بہت سے ممالک اتنے پرعزم نہیں ہیں۔ ان میں سے کئی نے چین کی طرف اشارہ کیا۔
SGP کے یورپی پارلیمنٹری برٹ-جان روسن نے کہا: ’ایک طرف یہ اچھی بات ہے کہ ہم EU کے طور پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں، لیکن اگر ہم بہت آگے نکل جائیں تو مارکیٹ میں اپنا مقابلہ خود ہی کم کر دیں گے۔ دوسری بات یہ ہے کہ EU اکیلے یہ کام نہیں کر سکتا۔ زیادہ آلودگی والے صنعتی ممالک جیسے چین اور بھارت کو بھی اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔‘
روسن کے مطابق عالمی تعاون بہت ضروری ہے۔ ’ہم جو اب عالمی سطح پر ایمیشن ٹریڈنگ سسٹم نافذ کر رہے ہیں وہ ایک اہم قدم ہے۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ فوسل ایندھن کا مرحلہ وار خاتمہ ضروری ہے۔‘
COP26 کے ذریعے دنیا نے پہلی بار 1.5 ڈگری زیادہ سے زیادہ گرمائش کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، محمد چہیم (PvdA) نے کہا۔ ’2 ڈگری سے کم رکھنا کافی نہیں ہے۔‘
باس ایکہوٹ (گرین لنکس) ابھی تک مطمئن نہیں ہیں۔ ’اس اجلاس نے واضح کر دیا کہ ہم نئے اہداف کے لیے مزید پانچ سال انتظار نہیں کر سکتے۔‘ اییکہوٹ کے مطابق یورپی پارلیمنٹ کو واقعی یہ روکنا چاہیے کہ گیس میں سرمایہ کاری کو ’پائیدار‘ قرار دیا جائے، جیسا کہ اب خطرہ لاحق ہے۔

