ایسے میں نئی فصل کی تکنیکوں کی توسیع جون میں یورپی انتخابات سے پہلے ہی مسترد ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کی توقع نہیں ہے۔
یورپی پارلیمنٹ کی ایگریکلچر کمیٹی نے جنوری میں ن جی ٹی-1 نسلوں پر پیٹنٹ پابندی جلد از جلد ختم کرنے کی منظوری دے دی تھی۔ تاہم اس وقت درخواست کی گئی تھی کہ (کیمیکل) کمپنیاں جی ایم او آلات پر پیٹنٹ حقوق حاصل نہ کر سکیں۔
گزشتہ سال کے آخر میں معلوم ہوا تھا کہ 27 یورپی یونین ممالک کے زراعت کے وزرا کی ضروری اکثریت ابھی حاصل نہیں ہو سکی۔ اگرچہ 15 ممالک حمایت کرتے ہیں، مگر ان کے پاس EU کی آبادی کا 65% نہیں بلکہ صرف 57.8% ہے۔جرمنی (18.72%)، بیلجیم (2.61%) اور بلغاریہ (1.44%) ووٹنگ سے گریزاں رہے کیونکہ ان کی حکومتیں اس معاملے پر منقسم ہیں۔ نو ممالک، جن میں پولینڈ (8.37%) شامل ہے، تجویز میں بہتر تحفظ خاص طور پر کاشتکاروں کے حقوق کی حفاظت چاہتے ہیں۔
یہ طے ہے کہ جرمنی اور بیلجیم کے زراعت کے وزرا (جو اس نصف سال میں EU کے صدر بھی ہیں) بدھ کو دوبارہ ووٹنگ سے گریز کریں گے۔ اگر GMO میں ترمیم شدہ خوراک کی لازمی لیبلنگ پر وضاحت آ جائے تو پولینڈ بدھ کو فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایگریکلچر کمیٹی اس کی مخالفت کرتی ہے مگر ماحولیاتی انوی کمیٹی اس کے حق میں ہے۔
اس سے یورپی کمیشن کے گرین ڈیل منصوبوں کے تیسرے حصے کے ختم ہونے کے امکانات نظر آتے ہیں۔ گزشتہ سال ہی یورپی ممالک اور ایگریکلچر کمیٹی نے قدرتی علاقوں کی مزید بگاڑ کو روکنے کے لیے ہدایات کو نئی پابندیوں سے خالی کر دیا تھا۔
کیمیکل کیڑے مار ادویات کے کم استعمال کی تجویز کو بھی آخر کار یورپی پارلیمنٹ نے مسترد کر دیا تھا کیونکہ تقریباً تمام نئے معیار بھی رد کر دیے گئے تھے۔ موجودہ بیلجیئم EU صدارت نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس قانون کی متنازعہ شقوں کو ختم کرکے اسے دوبارہ زراعت کے وزرا کے سامنے پیش کرے گی۔

