یورپی پارلیمنٹ میں مسیحی جمہوریوں کی اوورآرکنگ ای وی پی جماعت بدھ کو فیصلہ کرے گی کہ آیا وہ جنوری میں یورپی پارلیمنٹ کے صدر ڈیوڈ سسولی کے دوبارہ انتخاب کے مقابلے میں کوئی متبادل امیدوار پیش کرے گی یا نہیں۔ ایسی صورت میں، نیدرلینڈز کی ایسٹر دے لانگ (سی ڈی اے) تین سب سے زیادہ ممکنہ امیدواروں میں سے ایک ہوں گی، جن میں ہسپانوی استیبان گونزالیز پونس اور مالٹی رابرتا میٹسولا بھی شامل ہیں۔
ابتدائی منصوبہ یہ تھا کہ جرمن ای وی پی پارٹی کے رہنما مین فریڈ ویبر اطالوی سوشلسٹ سسولی کی جگہ لیں گے، جو سیاسی جماعتوں کے درمیان یورپی اعلیٰ عہدوں کی تقسیم کا حصہ تھا۔ کیونکہ 2019 میں مسیحی جمہوریوں کو یورپی کمیشن کی صدارت ملی (یورزولا وان ڈیر لیین)، اور لبرلز کو وزارتی کونسل کی قیادت ملی (چارلس مشیل)، اس لیے ای پی کا صدر منتخب ہونا سوشلسٹوں کا حق بنتا ہے۔
یورپی کمیشن کی صدارت پانچ سال کے لیے ہوتی ہے، مگر باقی دو عہدوں کا موقع وسط المدت دوبارہ انتخاب میں ہوتا ہے۔ چونکہ ویبر کو 2019 میں حکومتی سربراہوں نے کمیشن میں عہدے کے لیے غیر مناسب قرار دیا تھا، جماعتوں نے طے کیا کہ وہ وسط المدت انتخاب میں سسولی کی جگہ لیں گے۔
لیکن ویبر نے حال ہی میں اپنی امیدواری واپس لے لی ہے ‘‘کیونکہ وہ اپنی جرمن پارٹی کی سرگرمیوں پر زیادہ توجہ دینا چاہتے ہیں‘‘۔ جرمن مسیحی جمہوری جماعت نے حالیہ وفاقی انتخابات میں بھاری شکست کھائی، چانسلر شپ کھو دی اور اپوزیشن میں چلی گئی۔ جرمن سی ڈی یو/سی ایس یو کو آنے والے سالوں میں خود کو دوبارہ منظم کرنا ہوگا اور انہیں نیا پارٹی لیڈر تلاش کرنا ہو گا۔ موجودہ پارٹی سربراہ آرمین لاسچٹ کو ‘‘کم کشش‘‘ سمجھا جا رہا ہے۔
اب جب کہ ویبر نے اس پہلے کے ‘‘معاہدے’’ سے دستبرداری اختیار کر لی ہے، سسولی غور کر رہے ہیں کہ وہ دستبردار نہ ہوں بلکہ دوبارہ امیدوار ہوں۔ ای وی پی کو اب فیصلہ کرنا ہے کہ کیا وہ ویبر کی جگہ کسی اور کو امیدوار بنائیں۔ ایسی صورت میں یہ یورپی پارلیمنٹ کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان عہدوں کی تقسیم پر کھلا تنازعہ بن سکتا ہے اور ایک ‘‘سیاسی اختلاف’’ ابھر سکتا ہے۔
مسیحی جمہوری جماعت میں تین نام گردش کر رہے ہیں: پونس، میٹسولا اور دے لانگ۔ ہسپانوی امیدوار اپنی جماعت کے اندر مقبول ہیں، مگر دوسری جماعتوں میں پسندیدہ نہیں۔ مالٹی رابرتا میٹسولا (42 سال) یورپی پارلیمنٹ کی رکن چند سالوں سے ہیں، لیکن گزشتہ سال انہیں یورپی پارلیمنٹ کی پہلی نائب صدر منتخب کیا گیا جب مائراد میک گوئنس یورپی کمشنر بن گئیں۔
ممکن ہے کہ یورپی پارلیمنٹ ایک خاتون صدر کو ترجیح دے: گزشتہ چالیس سالوں میں صرف دو خواتین نے یہ عہدہ سنبھالا ہے۔ نیدرلینڈز کی ایسٹر دے لانگ (46 سال) سن 2007 سے سٹریٹسبورگ میں ہیں اور ای وی پی کی جماعت میں نائب صدور میں سے ایک ہیں۔ اگر وہ صدر منتخب ہو جاتی ہیں تو یہ نیدرلینڈ کے پہلے پارلیمنٹ صدارت کا عہدہ ہوگا پی وی ڈی اے کے پیئٹ ڈینکرٹ (1982-1984) کے بعد۔
ای وی پی جماعت کے اعلیٰ نمائندے شروع میں رواں ہفتے کے آخر میں روتردام میں یورپی بہن جماعتوں کے ساتھ کانفرنس منعقد کرنے کا پروگرام بنا رہے تھے، جس کا 'کوئی تعلق' اس ممکنہ نیدرلینڈز امیدوار کے اعلان سے نہیں تھا، جیسا کہ ہر طرف سے کہا جا رہا ہے....
اگر انتخاب ہوتا ہے تو نوجوان نیدرلینڈز کے یورپی یونین سیاستدان امیدواروں کے بارے میں مباحثہ مختلف انداز میں کرنا چاہتے ہیں۔ لارا وولٹرز (پی وی ڈی اے)، کِم وین اسپارنٹاک (گرینز لیگس) اور محمد شاہِم (پی وی ڈی اے) چاہتے ہیں کہ یورپی پارلیمنٹ حقیقی مباحثہ کرے اور نئے صدر سے ان کے خیالات، موقف اور یورپی پارلیمنٹ کے بارے میں نظریات کے بارے میں پوچھ گچھ کی جائے۔
‘‘نیدرلینڈز کی دوسری مجلس میں صدارت کے انتخاب پر بحث سات گھنٹے تک جاری رہی، جہاں نیدرلینڈز کے پارلیمنٹ ممبران امیدواروں سے سوالات کر سکتے تھے‘‘، مباحثے کی ابتداء کرنے والی لارا وولٹرز کہتی ہیں۔ ‘‘گزشتہ بار یورپی پارلیمنٹ میں یہ بحث صرف سات منٹ چلی۔’’ وولٹرز اور دیگر کئی خاص طور پر نوجوان یورپی پارلیمنٹارین سمجھتے ہیں کہ اس بار صورتحال مختلف ہونی چاہیے۔

