رپورٹ میں محافظ فیدیس پارٹی کے تحت ہنگری کی حکومت پر یورپی اقدار کو منظم طریقے سے نقصان پہنچانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ ورکنگ گروپ کے مطابق یہ اقدار زیادہ تر دیگر یورپی یونین کے ممالک میں مشترک ہیں۔ گروپ میں اقلیتوں کے حقوق میں کمی، پریس کی آزادی پر پابندیاں اور خود مختار تنظیموں کو باہر رکھنے جیسے اقدامات کا ذکر کیا گیا ہے۔
وزیراعظم اوربھان برسوں سے متعدد یورپی یونین کی تجاویز کی مخالفت کرتے آ رہے ہیں۔ ورکنگ گروپ کے مطابق انہوں نے بار بار روس کے خلاف پابندیاں لگانے اور یوکرین کو مدد فراہم کرنے کی کوششوں کو بلاک کیا۔ انہوں نے ماسکو کی مذمت کرنے والے یورپی بیان بھی روکے۔ اس سے یورپی حکمرانوں میں مایوسی اور یورپی پارلیمنٹ میں شدید ردعمل پیدا ہوا۔
کئی یورپی ممالک میں ہنگری پر مالی دباؤ ڈالنے کی تجویز کے حق میں حمایت بڑھ رہی ہے۔ اس حکمت عملی کے حامیوں کے مطابق جب تک ہنگری مشترکہ یورپی راستے سے مختلف رہے گا، یورپی فنڈز کی فراہمی روک دی جائے گی۔
یہ ورکنگ گروپ ڈیutch یورپی پارلیمان رکن ٹینی کی اسٹریک (گرین لنکس/پی وی ڈی اے) کی قیادت میں ہے۔ انہوں نے ہنگری کے دورے کے بعد کہا کہ یہ ملک “تیزی سے غلط سمت جا رہا ہے”۔ ان کے مطابق رپورٹ سے قانون کی حکمرانی، ججز کی آزادی اور اقلیتوں کے تحفظ میں سنگین تنزلی ظاہر ہوتی ہے۔ یہ پیش رفت یورپی یونین کی مداخلت کو جائز ٹھہراتی ہے۔
ہنگری کے دورے کے دوران ورکنگ گروپ کی کئی ملاقاتیں سرکاری حکام سے منسوخ کر دی گئیں۔ یورپی پارلیمنٹ میں حکومت نواز جماعتوں نے بھی تعاون نہیں کیا۔ ورکنگ گروپ کے مطابق اس سے ہنگری کی انتظامیہ کی بات چیت اور تعاون کی عدم دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔
ہنگری کی حکومت کے ترجمان نے ورکنگ گروپ کے دورے کو یورپی یونین کی مداخلت کی مثال قرار دیا اور کہا کہ یورپی پارلیمنٹ کے اراکین غیر جانبدارانہ کام نہیں کر رہے۔

