بارہ یورپی یونین کے رکن ممالک، جن میں بیلجیم، فرانس، جرمنی اور نیدرلینڈ شامل ہیں، نے حال ہی میں یورپی کمیشن کو ایک مشترکہ خط میں درخواست کی ہے کہ وہ ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (DSA) کے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے یورپی انتخابات کی سالمیت کی حفاظت کرے۔ انہوں نے غیر ملکی مداخلت کے خلاف فوری اور مشترکہ کارروائی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
نئی پارلیمانی کمیٹی نہ صرف غیر ملکی طاقتوں کی پوشیدہ پروپیگنڈے پر توجہ دے گی بلکہ گمنام سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے کی جانے والی جعلی خبروں کی سرپرستی پر بھی نظر رکھے گی۔ اس قسم کی سرگرمیاں یورپی یونین کے رکن ممالک کی استحکام اور خودمختاری کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔
ایسی مداخلت کی ایک حالیہ مثال رومانیا کے صدارتی انتخابات ہے۔ دسمبر میں، بوکو ریست کے آئینی عدالت نے مشتبہ روسی مداخلت کے باعث، جو ٹک ٹاک کے ذریعے ہوئی تھی، انتخابات کے پہلے مرحلے کو منسوخ کردیا تھا۔ یہ واقعہ غیر ملکی مداخلت کے خلاف اقدامات کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔
جارجیا میں بھی پرو-روسی مداخلت کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ ملک مکمل طور پر یورپی یونین کا رکن نہیں ہے، لیکن اس کے یورپی یونین کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور اس خطے میں ایسی مداخلت کی کوششیں جمہوری عمل کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (DSA) ایک حال ہی میں نافذ کردہ یورپی قانون ہے جو بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، جیسے فیس بک اور X (سابقہ ٹویٹر)، کو نقصان دہ مواد کو ماڈریٹ اور حذف کرنے کا پابند کرتا ہے۔ غفلت کی صورت میں سالانہ عالمی آمدنی کے 6% تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ DSA معلومات کی غلط پھیلاؤ اور غیر ملکی مداخلت کے خلاف اہم ہتھیار فراہم کرتا ہے۔
نئی پارلیمانی کمیٹی یورپی کمیشن اور یورپی یونین کے ممالک کے ساتھ قریبی تعاون کرے گی تاکہ ان خطرات کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ غیر ملکی مداخلت کے علاوہ، یہ کمیٹی داخلی خطرات، جیسے ملکی عناصر کی جانب سے معلومات کی غلط خبریں پھیلانے پر بھی توجہ دے گی۔

