یورپی کمیشن نے حال ہی میں بتایا تھا کہ وہ ضروری طریقے اور تکنیکی رہنما اصول وقت پر تیار نہیں کر پائے گا۔ اس بات نے مختلف شعبہ جات میں قانون کی ممکنہ عمل آوری اور بڑھتے ہوئے انتظامی بوجھ کے حوالے سے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ کاروباروں کو مزید تیاری کا وقت دینے اور غیر ضروری پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے یورپی پارلیمنٹ نے اب یکم سال کی تاخیر کی منظوری دی ہے جو کہ 2025 کے آخر تک ہوگی۔
اس قانون کا مقصد جنوبی امریکہ اور ایشیا کے جنگلاتی علاقوں سے تعلق رکھنے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کرنا ہے۔ یہ قانون کمپنیوں کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ثابت کریں کہ ان کی مصنوعات حالیہ عرصے میں کاٹے گئے جنگلات سے حاصل نہیں کی گئیں۔ اس میں پام آئل، سویابین، لکڑی، کوکو اور گائے کا گوشت جیسی مصنوعات شامل ہیں۔
یورپی درآمد کنندگان کو اپنے مصنوعات کی ماخذ کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کرنا ہوں گی تاکہ سخت ٹریس ایبلٹی اور شفافیت کے تقاضوں پر پورا اتر سکیں۔ یہ اقدام عالمی سطح پر جنگلاتی کٹائی کے خلاف ایک اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے جو خاص کر نباتاتی علاقوں میں ماحولیاتی نقصان کا باعث ہے۔
پارلیمنٹ نے چند ایسی تبدیلیاں بھی کی ہیں جنہیں مخالفین نے اصل قانون کی کمزوری قرار دیا ہے۔ ماحولیاتی تنظیمیں خدشہ ظاہر کر رہی ہیں کہ یہ ترامیم قانون کی مؤثریت کو کمزور کر سکتی ہیں۔ تاہم کچھ حلقے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ تبدیلیاں لازمی ہیں تاکہ قانون چھوٹے کاروباروں اور پیداواری اداروں کے لیے قابل عمل رہے۔
ان ترامیم کے ایک نتیجے کے طور پر اب یورپی پارلیمنٹ اور یورپی یونین کے وزراء کے درمیان ایک نئی مذاکراتی راونڈ شروع کرنی پڑے گی۔ اس تجدید شدہ مشاورت میں (نئے) یورپی کمیشن اور یورپی پارلیمنٹ کی سیاسی جماعتیں دوبارہ ان پچھلے اقدامات پر بحث کر سکیں گی جو پہلے پیش کیے گئے لیکن مسترد کر دیے گئے تھے۔ یہ عمل قانون کے نفاذ میں مزید تاخیر اور کاروباروں اور پالیسی سازوں کے لیے اضافی غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔

