اس کے ذریعے یونین کی اقتصادی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے: جہاں پہلے سخت معیارات نافذ کیے جاتے تھے، اب انہیں کمزور کیا جا رہا ہے۔ کمیشن کی صدر ارسولا وون دیر لیین کا کہنا ہے کہ روس کے یوکرین پر حملے اور نئے امریکی درآمدی محصولات کی وجہ سے یورپی یونین کے ممالک کو اپنی معیشت خود بہتر بنانا ہوگی۔
یورپی یونین اس فیصلے کے ساتھ گزشتہ سالوں کی حکمت عملی سے مختلف راہ اختیار کر رہی ہے۔ ماضی میں گرین ڈیل کے ذریعے نئے ماحولیاتی قوانین اور پائیداری کے تقاضے متعارف کرائے گئے تھے۔ اب اومنی بس رپورٹوں میں گرین ڈیل، ماحولیاتی، پائیداری، انسانی حقوق اور سماجی امور کے قوانین کو ختم یا نرم کیا جا رہا ہے۔
پارلیمنٹ میں مرکز دائیں بازو کی ای وی پی نے مرکز بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ مل کر تنقید کی گئی قوانین کو آہستہ آہستہ کم کرنے کی بجائے دائیں اور انتہائی دائیں جماعتوں کے ساتھ مل کر انہیں بہت زیادہ کم کرنے کا انتخاب کیا ہے۔ اسے پارلیمنٹ میں سابقہ تعاون سے اختلاف اور سیاسی تعلقات میں تبدیلی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
اب کاروباری اداروں کو اپنی کاروباری کارکردگی کو بین الاقوامی ماحولیاتی معاہدات کے مطابق بنانے کے لیے پلان بنانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ذمہ داری کے قوانین میں بھی نمایاں پیچھے ہٹاؤ کیا گیا ہے۔ حمایتیوں کا کہنا ہے کہ یہ نتیجہ انتظامی بوجھ کو کم کرنے کے لیے ایک ضروری قدم ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بہتر مقابلے کے لیے کم ذمہ داریاں ضروری ہیں۔
گرین، سوشلسٹ اور سماجی تنظیمیں اس فیصلے کو ماحولیاتی پالیسی کے لیے ‘‘ناکامی’’ یا ‘‘سیاہ دن’’ قرار دیتی ہیں۔ ان کے مطابق اس سے وہ پالیسی ختم ہو رہی ہے جو انسانی حقوق اور قدرتی وسائل کی حفاظت کے لیے بنائی گئی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ انتہائی دائیں بازو کے ساتھ یہ تعاون بے چینی پھیلائے گا؛ اس کے ساتھ پرانا ‘‘کورڈن سینٹیئر’’ ختم ہو گیا ہے۔
نیدرلینڈ کے یورپی پارلیمنٹ رکن لارا وولٹرز (S&D/PvdA) جو کہ ان بدلائے گئے قوانین کی شریک مصنف بھی تھیں، نے کہا: ‘‘انتہائی دائیں بازو کے ساتھ کھلے تعاون سے یورپی کرسچن ڈیموکریٹس نے دکھا دیا ہے کہ وہ اصل میں کس کے حق میں ہیں۔ وہ ایک دوسرے کی فکر کے لیے نہیں بلکہ استحصال اور نقصان کی معیشت کے لیے کھڑے ہیں۔’’
وولٹرز نے ووٹنگ کے نتائج پر ردعمل میں کہا: ‘‘تیل کمپنیوں کی ذمہ داری ختم ہو گئی، جدید غلامی کے شکار افراد کے لیے انصاف ختم ہو گیا، ماحولیاتی اور ماحولیاتی نقصان کی ذمہ داری لینے کا تصور ختم ہو گیا۔ جو کمپنیاں درست عمل کرنا چاہتی ہیں وہ نظر انداز کی جارہی ہیں؛ بے قاعدہ اور غیر ذمہ دار کمپنیاں بلا روک ٹوک کام کر رہی ہیں۔ یہ سب کچھ ’معیشت کے لیے اچھا‘ ہونے کے بہانے کیا جا رہا ہے۔’’

