25 سال بعد EU میں ایسے F-گیسز کا استعمال ممنوع ہو جائے گا۔ اسٹراسبرگ میں یورپی پارلیمنٹ نے منگل کو ایک معاہدہ منظور کیا جو پہلے یورپی ماحولیاتی وزراؤں کے ساتھ طے پایا تھا، اور جس کی تیاری نیدرلینڈز کے یورپی پارلیمنٹیرین باس آئیکہوٹ (گرین لنکس) نے کی تھی۔ یہ متن مرحلہ وار کمی اور 2050 تک ’کلوروفلوروکاربن‘ کی مکمل ختمی کی ضمانت دیتا ہے۔
EU مارکیٹ میں F-گیسز پر مبنی مصنوعات کی پابندیوں کے لیے بھی سخت قواعد آئیں گے۔ یہ ان شعبوں میں ہوگا جہاں ٹیکنالوجی اور معیشت کے اعتبار سے متبادل پر جانا ممکن ہو۔ نئے یورپی قانون کے مطابق یہ سیکٹرز ایئر کنڈیشنگ، ہیٹ پمپس، اور گھریلو سردی کے نظام شامل ہیں۔
یورپی کمیشن نے اپنے ابتدائی تجویز میں مکمل F-گیسز کی بندش کا مقصد نہیں رکھا تھا۔ آئیکہوٹ کے لیے مکمل پابندی شامل کرنا انتہائی اہم تھا۔ یورپی پارلیمنٹ نے اوزون کو نقصان پہنچانے والی مادوں میں کمی کے لیے بھی ایک معاہدے کو منظور کیا۔
آئیکہوٹ نے قانون سازی کی اہمیت پر زور دیا: “ہم نے مارکیٹ کو واضح پیغام دیا ہے: صاف متبادل کی طرف بڑھیں۔ یہ نہ صرف موسم کی تبدیلی کے لیے اہم ہے بلکہ یورپی صنعت کے لیے بھی فائدہ مند ہے، جو صاف مصنوعات کی پیداوار میں رہنما رہ سکتی ہے۔”
F-گیسز کی مکمل ختمی PFAS پر بحث سے بھی جڑی ہوئی ہے، جن کیمیائی مادے ہیں جو ماحول میں کم ٹوٹتے ہیں اور صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ اب تک ممنوع F-گرین ہاؤس گیسز کے متبادل کے طور پر کیمیائی صنعت نے ایک نئی نسل کی گیسز متعارف کرائیں جو اکثر PFAS پر مبنی ہوتی تھیں۔
پارلیمنٹ اس سے چھٹکارا چاہتا تھا، لیکن کچھ EU ممالک اس کے سخت مخالف تھے۔ آخرکار ایک سمجھوتہ ہوا جس کے تحت خصوصاً چھوٹے گھریلو آلات کے لیے PFAS گیسز پر پابندی آئے گی، لیکن صنعتی استعمال کے لیے نہیں۔

