یورپی پارلیمنٹ نے اکثریتی رائے سے غیر ملکی مداخلت اور انتخابی مہمات میں دخل اندازی پر پابندی کی حمایت کی ہے۔ اس سے نہ صرف یورپی یونین کے ممالک میں روسی یا چینی پروپیگنڈا کا مقابلہ کیا جا سکے گا بلکہ فیس بک اور ٹوئٹر پر توہین آمیز مہمات اور جعلی خبریں بھی روکی جا سکیں گی۔
گزشتہ چند سالوں میں میڈیا کے مضامین، اشتہارات اور پردہ پوش اثراندازی کے خلاف ممکنہ اقدامات پر سیاست میں کافی بحث ہوئی ہے۔ مخالفین اسے سنسرشپ قرار دیتے ہیں۔ حمایتیوں کا کہنا ہے کہ فیس بک نے برسوں تک واضح نفرت انگیزی کے خلاف کچھ نہیں کیا۔ روسی ٹرولز کی موجودگی بھی برسوں سے معروف ہے۔
اب منظور شدہ سفارشات کے تحت ہمیں روسی پروپیگنڈا کو روکنا ہوگا، یہ بات نیدرلینڈز کے یورپی پارلیمنٹیرین تھیس ریوٹن اور پال ٹینگ بھی کرتے ہیں۔ رپورٹ میں پارلیمنٹ نے چین اور روس کی انتخابی عمل میں مداخلت کو ختم کرنے کے لیے متعدد تجاویز پیش کی ہیں۔ اس کے علاوہ آزاد صحافت کے کردار کو مضبوط بنانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
اب یورپی کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ واضح قانون سازی کے ساتھ آگے بڑھے۔ لیکن یوکرین کے خلاف روس کی جنگ سے یہ بات ایک بار پھر واضح ہوگئی ہے کہ عوامی رائے کو قابو پانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اب یورپی یونین کے مختلف ممالک میں روسی ٹی وی چینلز کو کیبل نیٹ ورک سے ہٹایا جا رہا ہے اور ماسکو میں آزاد میڈیا کے دفاتر بند کیے جا رہے ہیں۔
ریوٹن کے مطابق: "پوٹن جانتا ہے کہ اتحاد ہماری سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔ اسی لیے وہ ہر ممکن طریقے سے انتشار، تقسیم اور غیر یقینی پھیلانے کی کوشش کرتا ہے۔ اب جب یورپی یونین بغیر کسی شرط کے یوکرین کی حمایت کر رہا ہے تو غلط معلومات پھیلانا پوٹن کے سب سے اہم جنگی ہتھیار بن چکا ہے۔ ہمیں اس کا ہتھیار چھیننے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی ہوگی۔"
پال ٹینگ کہتے ہیں کہ یہ ایک ٹھوس اقدام کا مطالبہ کرتا ہے: "صرف اس کے بعد کہ یورپی کمیشن نے روسیا ٹوڈے اور اسپٹ نِک پر پابندی لگائی، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے کارروائی کی۔ اس دوران روسی پروپیگنڈا بغیر کسی فلٹر کے سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی۔ میں فیس بک، گوگل، یوٹیوب، ٹوئٹر اور ٹک ٹاک سے مخاطب ہوں کہ وہ زائرین اور قارئین کو ممکنہ غلط معلومات سے آگاہ کریں اور اپنے صارفین کو معتبر ذرائع کی طرف رہنمائی کریں۔"
گزشتہ برسوں میں روسی ٹرولز کی فیکٹریوں کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہوا ہے۔ ان میں سب سے بدنام سینٹ پیٹرزبرگ میں ایک دفتر ہے جہاں سینکڑوں کارکن روزانہ آن لائن گفتگوؤں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
انہیں روسی خفیہ اداروں سے تعلقات یا روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے قریبی ساتھی ایوگینی پریگوژن جیسے کاروباری افراد کی مالی اعانت کے الزامات کا سامنا بھی ہے۔
یہ بات بھی ثابت ہے کہ یہ روسی کارکن دنیا کے دیگر ممالک میں بھی سوشل میڈیا پر سرگرم تھے۔ 2016 کے امریکی صدارتی انتخاب کے دوران انہوں نے فیس بک پر مختلف اکاؤنٹس بنائے جو امریکہ میں ذاتی احتجاجات بھی منعقد کروا سکے۔ فیس بک نے چند سال قبل اعتراف کیا تھا کہ اس نے سینکڑوں 'روسی' پروفائلز اور ہزاروں اشتہارات کو شناخت کیا ہے۔

