چونکہ یورپی پارلیمنٹ، یورپی کمیشن اور یورپی یونین کے حکومتی رہنما اگلے سال کے لئے یورپی یونین کے بجٹ اور 2021–2027 کے کثیر سالہ بجٹ پر ابھی تک متفق نہیں ہو سکے، اس لئے زرعی سبسڈیوں میں ممکنہ کٹوتیوں کے بارے میں بھی کوئی وضاحت موجود نہیں ہے۔ اسٹراسبرگ اور برسلز میں اب تک عوامی سطح پر مختلف بجٹوں میں اضافے کی باتیں ہو رہی ہیں، مگر کٹوتیوں کے بارے میں زیادہ تر خاموشی اختیار کی گئی ہے۔
یورپی پارلیمنٹ نے اس ہفتے یورپی یونین کے کثیر سالہ بجٹ پر بات کی۔ گزشتہ ہفتے یورپی یونین کے رہنماؤں نے اپنے یورپی اجلاس میں اس موضوع پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ اس سال متوقع حتمی بجٹ پر پہنچنے کا عزم حکومتوں کے رہنماؤں نے ترک کر دیا ہے۔ ارائیں اس بات پر کافی مختلف ہیں کہ کون سا ملک کتنا ادا کرے اور کہاں فنڈز خرچ کیے جائیں۔
نیدرلینڈ دیگر خالص ادائیگی کرنے والوں اور جرمنی کے ساتھ مل کر کل معیشتوں کے 1% کے خرچ کی حد پر قائم ہے۔ یہ تقریباً سات سال کے دوران برطانیہ سمیت تقریباً 1,000 ارب یورو کے موجودہ بجٹ کے برابر ہے۔ یورپی کمیشن بجٹ کو 1.1% تک بڑھانا چاہتا ہے جبکہ یورپی پارلیمنٹ شراکتوں کو مزید بڑھا کر 1.3% کرنا چاہتی ہے۔
یورپی یونین سے ممکنہ برطانوی علیحدگی یورپی یونین کے مالی معاملات پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔ برطانیہ یورپی یونین کا ایک بڑا اداکار ہے۔ اگر بریگزٹ ممکن ہو گیا تو یہ رقم ختم ہو جائے گی۔ کئی رکن ملک اور یورپی پارلیمنٹ یورپی یونین کی حکمت عملی کے لیے مزید بجٹ کی حمایت کر رہے ہیں، جس میں زرعی پالیسی کے اخراجات کو برقرار رکھنے یا بڑھانے کی خواہش بھی شامل ہے۔
نئی یورپی کمیشن آئندہ سالوں میں یورپی زرعی سبسڈیوں کا 40 فیصد ماحولیات کیلئے منتقل کرنا چاہتی ہے اور اسے زمین کی حرارت میں اضافے کے خلاف ماحولیاتی اقدامات میں استعمال کرنا چاہتی ہے۔ یہ بات فرانس ٹمرمنس، موجودہ اور نئی یورپی کمیشن کے وائس چیرمین نے یورپی پارلیمنٹ کے تحریری سوالات کے جواب میں پہلے بھی کہی ہے۔
نئی کمیشن میں ٹمرمنس یورپی یونین کی ماحولیاتی پالیسی کے ذمے دار ہیں۔ اس سیاستدان کے مطابق زراعت دیگر اقتصادی شعبوں کے ساتھ مل کر 2050 تک ایک ماحولیاتی لحاظ سے غیرجانبدار یورپ کے قیام میں ایک ’اہم‘ کردار ادا کرے گی۔ ’پائیدار زمین کی نگرانی‘ اس ضمن میں پیغام ہے، ان کا خیال ہے۔
ٹمرمنس نئی کمیشن میں زرعی سبسڈیوں کی شدید کٹوتی (جس میں آمدنی کی حمایت میں بھی کمی شامل ہے) کے حق میں اظہار خیال کریں گے۔ کیونکہ نئے یورپی کمیشن کے بیشتر کمشنرز اور زیادہ تر یورپی پارلیمانی ارکان ’گرین ڈیل‘ اور برسلز میں ماحولیاتی پالیسی کے ساتھ متفق ہیں، یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ یورپی زرعی سبسڈیاں بھی بالآخر ان کے ماتحت آ جائیں گی۔
Promotion

