اٹلی کے پناہ گزینوں کے لیے قائم کی گئی جگہ کو گزشتہ ہفتے یورپی یونین کی سربراہی اجلاس میں یورپی ممالک کی جانب سے مہاجرین کی بڑی تعداد کے مسئلے کے حل کے طور پر بھر پور دلچسپی اور خیرمقدم حاصل ہوا۔
اسی طرح نیدرلینڈز نے بھی پچھلے ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے پناہ گزین درخواست دہندگان کو درخواست کی کارروائی کے دوران یوگنڈا منتقل کرنے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے۔ قبل ازیں برطانیہ کے سابق وزیراعظم بورس جانسن نے اعلان کیا تھا کہ وہ مسترد شدہ پناہ گزینوں کو روانڈا بھیجیں گے، لیکن وہ منصوبہ اب ختم کر دیا گیا ہے۔
اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی کا وہ خیال جس میں وہ البانیا کو ایک بیرونی پناہ گزین مرکز کے طور پر استعمال کرنا چاہتی تھیں جہاں وہ مہاجرین کو رکھیں گی جنہیں اٹلی میں پناہ حاصل کرنے کا حق نہیں، عدالت نے مسترد کر دیا۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ اٹلی کی سرحدوں کے باہر حراست غیر قانونی ہے کیونکہ یہ اٹلی کے آئینی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں کے خلاف ہے جن کا اٹلی پابند ہے۔
البانیا جو یورپی یونین کا رکن نہیں، عارضی رہائش کی سہولت فراہم کرنے پر مالی معاوضہ حاصل کرے گا۔ منصوبے کی مخالفت اور حمایت دونوں ہو رہی ہے۔ جہاں ناقدین اس فیصلے کو قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کی فتح قرار دے رہے ہیں، وہیں اٹلی کی حکومت مایوس ہے۔ وزیر اعظم میلونی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت نئے قانونی راستے تلاش کر رہی ہے تاکہ منصوبہ کو مکمل کیا جا سکے۔

