IEDE NEWS

آئی ایم ایف کی وارننگ: یورپی یونین کے ممالک میں خشک سالی کے باعث زراعت میں کمی

Iede de VriesIede de Vries
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، مسلسل خشک سالی کے اثرات صرف جنوبی یورپی یونین کے ممالک تک محدود نہیں ہیں بلکہ دیگر یورپی ممالک اور عالمی معیشت پر بھی اثرانداز ہو رہے ہیں۔ دوسری سال بہ تسلسل خشکی اور شدید گرمی نے جنوبی یورپ کی زرعی صنعت کو متاثر کیا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے مطابق بڑھتی ہوئی خشک سالی اور کم ہوتی زرعی پیدا واریت کا عالمی معیشت پر نمایاں اثر پڑ رہا ہے۔ اس کے اقتصادی اثرات خوراک کی پوری فراہمی کی زنجیر میں محسوس کیے جائیں گے، کسانوں سے لے کر صارفین تک۔ کم پیداوار کی وجہ سے غذائی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ خاص طور پر غریب طبقے کو متاثر کرے گا۔ اس سے غذا کی عدم فراہمی میں اضافہ ہوگا اور بعض ممالک میں سماجی بے چینی میں بھی شدت آ سکتی ہے۔

جنوبی یورپ میں جاری خشک سالی سے فصلوں کی پیداوار کم ہو رہی ہے اور خاص طور پر سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ سپین میں پہلے ہی ناکام فصلیں اور پانی کے ذخائر میں کمی کا سامنا ہے۔ سپینی کسان کہتے ہیں کہ خشک سالی ان کی آمدنی پر تباہ کن اثر ڈال رہی ہے اور وہ حکومت سے مالی مدد مانگ رہے ہیں تاکہ اس نقصان کو کم کیا جا سکے۔

سپین میں کسان پہلے ہی خشک سالی کے نتائج کے بارے میں انتباہ دے چکے ہیں۔ گزشتہ سالوں میں سپین میں بارش کی مقدار میں کمی اور درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے ملک کی زرعی پیداوار دباؤ میں آ گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں اُن سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار میں کمی آئی ہے، جیسے کہ ایسپیرگس، جو ملک کی اہم برآمدی اشیاء میں سے ہیں۔

سپینی کسان توقع کرتے ہیں کہ اس سال مستقل خشک سالی کی وجہ سے پیداوار 20-25 فیصد کم ہو جائے گی، جس سے ملک اور عالمی سطح پر ان مصنوعات کی قیمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔

لیکن مسئلہ صرف سپین تک محدود نہیں ہے۔ دیگر یورپی ممالک جیسے کہ اٹلی میں بھی خشک سالی کے اثرات نمایاں ہیں۔ حال ہی میں اٹلی نے شدید پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک ہنگامی حکم نامہ جاری کیا ہے۔ اس حکم نامے میں فصلوں کی آبپاشی کے لیے فضلہ پانی کے استعمال اور شہری علاقوں میں غیر ضروری پانی کے استعمال پر پابندی جیسے اقدامات شامل ہیں۔

اٹلی کا یہ ہنگامی حکم نامہ انتہائی اہم موقع پر آیا ہے۔ یہ ملک کئی سالوں سے موسمی تبدیلیوں کے سبب زرعی پیداوار میں کمی کا سامنا کر رہا ہے۔ گزشتہ برسوں کی خشک سالی نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے، جس سے فصلیں ضائع ہو رہی ہیں اور چشمے اور نہریں خشک ہو رہی ہیں۔

اس صورتحال نے اٹلی میں خوراک کی قیمتوں کے حوالے سے بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔ زرعی شعبہ ایک اہم معاشی شعبہ ہے اور سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار اٹلی کی معیشت اور غذائی فراہمی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اگر خشک سالی جاری رہی اور فصلیں ناکام ہوتی رہیں، تو ان مصنوعات کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، جو اٹلی کے عوام کے لیے اقتصادی مسائل کا باعث بنے گا۔

یہ مضمون Iede de Vries نے لکھا اور شائع کیا ہے۔ ترجمہ اصل ڈچ ورژن سے خودکار طور پر تیار کیا گیا۔

متعلقہ مضامین