ان واقعات کو یورپ کے نازک انفراسٹرکچر پر ممکنہ حکمت عملی حملوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
فن لینڈ اور جرمنی کے درمیان کی کیبل شمالی اور وسطی یورپ کے مابین ڈیجیٹل رابطے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، جبکہ سویڈن-لتھوینین کیبل بحر البلٹک کے اہم نیٹ ورکس کی حمایت کرتی ہے۔ دونوں کیبلز کے ٹوٹنے کی اطلاع اس ہفتے کے شروع میں دی گئی۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس شک ظاہر کرتے ہیں کہ نیٹو ممالک اور روس کے درمیان جیوپولیٹیکل کشیدگی کے باعث خراب کاری ممکن ہے۔
موجودہ واقعات اس سال کے آغاز میں فنش خلیج میں گیس پائپ لائن کے ٹوٹنے کی یاد دلاتے ہیں، جس کی وجہ ممکنہ طور پر ایک چینی کانٹینر شپ کا سمندر کے تہہ پر گھسیٹا گیا اینکر تھا۔ اس واقعے کو ابتدا میں حادثہ سمجھا گیا، لیکن بعد میں سازش کے امکان پر قیاس آرائیاں ہوئیں۔
بالٹک کی کیبلز کے ٹوٹنے میں نوڈ اسٹریم پائپ لائنز کی خراب کاری کے مشابہتیں بھی نظر آتی ہیں، جو 2022 میں روس کے یوکرین کے خلاف جنگ شروع ہونے کے فوراً بعد ہوئی تھیں۔ اس واقعے میں ایک نئی جرمنی-روس گیس پائپ لائن تباہ ہو گئی تھی۔ یورپی یونین نے روسی تیل اور گیس کی درآمدات مختصر مدت کے لئے روک دی ہیں۔
ماہرین لمبے عرصے سے ہائبرڈ جنگ کی خطرات کی وارننگ دے رہے ہیں، جہاں صرف فوجی وسائل کا استعمال نہیں بلکہ اقتصادی اور تکنیکی انفراسٹرکچر پر حکمت عملی حملے بھی کیے جاتے ہیں۔
روس کو اکثر ایک ممکنہ خطرہ کے طور پر ذکر کیا جاتا ہے۔ خطے میں جیوپولیٹیکل کشیدگی کی وجہ سے یورپی ممالک اپنے انفراسٹرکچر میں ناممکن مقامات پر خراب کاری کے حملوں کے لیے چوکس رہتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق زیرِ آب کیبلز، گیس پائپ لائنز، اور دیگر اہم نیٹ ورکس کی بہتر نگرانی اور حفاظت کی ضرورت ہے۔ بالٹک سمندر توانائی اور ڈیٹا کنکشنز کا ایک اہم مرکز ہے، اور ایسے واقعات خطے میں استحکام اور تعاون کو گہرائی سے متاثر کر سکتے ہیں۔
اگرچہ ابھی حتمی نتائج نہیں نکلے، مختلف ممالک اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ کیبلز کی قربت اور بیک وقت ناکامی اتفاقیہ نہیں ہو سکتی۔ جرمنی، فن لینڈ، سویڈن، اور لتھوینیا ای یو اور نیٹو کے اندر مزید تعاون کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کو روکا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق بالٹک کی کیبلز کے ٹوٹنے سے پھر واضح ہوتا ہے کہ یورپ غیر روایتی جنگی حکمت عملیوں کے سامنے کتنا نازک ہے۔

