یورپی کونسل کے نئے دفتر کی تعمیر کے دوران کئی مزدوروں کے استحصال کا انکشاف بیلجئیم کے اخبار ڈی اسٹینڈارڈ کی تحقیق سے ہوا ہے۔ مختلف یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کو ٹھیکیداروں نے بغیر معاہدے کام پر لگا رکھا تھا، انہیں تنخواہ نہیں دی گئی اور حادثات کی صورت میں انشورنس بھی نہیں فراہم کی گئی تھی۔
ہالینڈ اور فلیمنگ کے سوشلسٹ یورپی پارلیمنٹیرین کیتھلین وان برمپٹ اور اگنیس جونگریئس چاہتی ہیں کہ استحصال شدہ مزدوروں کو معاوضہ دیا جائے اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
کیتھلین وان برمپٹ (sp.a) کہتی ہیں، "یہ شرم ناک بات ہے کہ یورپی قوانین، جو کہ مزدوری کے معاہدوں اور سماجی تحفظ کے متعلق ہیں، ایک ایسے اہم عمارت میں توڑے گئے جو یورپ کی نمائندگی کرنی چاہیے تھی۔" اگنیس جونگریئس (PvdA) نے کہا، "یہ بدعنوانیاں جو کونسل کی عمارت میں ہوئیں، پورے تعمیراتی شعبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ ٹھیکیداروں کی بے تحاشا تعداد استحصال کو چھپاتی ہے۔ جس کمپنی نے ٹھیکہ جیتا ہے اسے پوری زنجیر کی ذمہ داری لینی چاہیے۔"
جونگریئس اور وان برمپٹ چاہتے ہیں کہ یورپی یونین خود بھی اس معاملے میں قدم اٹھائے۔ کیتھلین وان برمپٹ کہتی ہیں، "ہمیں اخلاقی طور پر ذمہ داری محسوس ہوتی ہے کہ معلوم کریں کہ کون سے بلغاریائی، پرتگالی اور مولڈووا کے مزدور یہاں استحصال کا شکار ہوئے اور انہیں کس طرح کا معاوضہ دیا جا سکتا ہے۔" اگنیس جونگریئس کہتی ہیں، "اگر ہم تعمیراتی شعبے میں 'وائلڈ وست' کو قابو میں رکھنا چاہتے ہیں تو یورپی تعمیراتی جگہوں کے لیے ID کارڈز متعارف کرانے ہوں گے۔ تب ہی یہ معلوم کیا جا سکے گا کہ کون تعمیراتی جگہ پر کام کر سکتا ہے۔"
جونگریئس اور وان برمپٹ نے یورپی کمیشن اور یورپی کونسل کو ایک خط بھیجا ہے جس میں ان اقدامات کی اپیل کی گئی ہے۔ اس اپیل کی حمایت مختلف یورپی ممالک کے یورپی پارلیمنٹیرینز کر رہے ہیں۔

