یہ قواعد صرف تجارتی درآمدات کے لیے نہیں بلکہ مسافروں کی ذاتی اشیاء پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔ برتن، دودھ کی بوتلیں اور دیگر خوراک کو برطانیہ پہنچتے ہی خالی کرنا ہوگا۔ کسٹم اہلکار ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور سرحدی راستوں پر سخت چیکنگ کریں گے۔
یہ سخت پابندیاں سلووینیا اور ہنگری میں MKZ کی نئی رپورٹس کے بعد نافذ کی گئی ہیں۔ برطانیہ فی الحال MKZ سے پاک ہے مگر خوف ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آلودہ خوراک یا گوشت و دودھ کی مصنوعات کے ذریعے بیماری دوبارہ آ سکتی ہے۔ ممنوعہ اشیاء ساتھ لانے والے کو ضبطی اور 5,000 پاؤنڈ تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
اس اقدام کے ذریعے برطانیہ امریکہ، کینیڈا اور جاپان جیسے ملکوں میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے پہلے ہی مخصوص EU ممالک سے گوشت کی درآمدات پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ برطانوی نیشنل فارمرز یونین نے اس اقدام کو برطانوی زراعت کے لیے خطرناک وبا سے بچاؤ کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔
آسٹریا میں MKZ میں اضافے کے جواب میں متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ آسٹریائی حکومت نے بیماری کو ملک سے باہر رکھنے کی کوشش میں سرحدیں بند کر دی ہیں۔ گوشت کی صنعت نے تیسری دنیا کے ممالک سے درآمد پر پابندی کے اثرات پر تشویش ظاہر کی ہے جو اب اضافی EU تدابیر کے ساتھ لاگو ہو رہی ہیں۔
یورپ کے دیگر حصوں میں بھی حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ EU کے ممالک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ MKZ کی وسیع تر پھیلاؤ کے خوف سے چوکنّا پن بڑہ گیا ہے اور تجارتی طریقے بدلنے لگے ہیں۔ متاثرہ علاقوں کی مویشیوں کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں عین اعداد و شمار ابھی تک دستیاب نہیں ہیں۔
تاہم معلوم ہے کہ جرمنی میں پہلے MKZ کے واقعے اور بعد میں جرمن گوشت کی مختصر درآمدی پابندی کے باعث گوشت کی تجارت سے وابستہ متعدد صنعتوں کو لاکھوں پاؤنڈ کا بڑا نقصان ہوا تھا۔

