یہ اعلان برطانیہ میں زراعت کے مستقبل کے بارے میں بڑھتی ہوئی تنقید اور اندیشوں کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپی یونین سے برطانیہ کے باہر نکلنے کے باعث اس شعبے کو بہت شدید نقصان پہنچا ہے۔ گزشتہ ہفتے آکسفورڈ میں ایک بڑے زرعی کانفرنس میں بے چینی کی فضا غالب رہی۔
اپنی تقریر کے دوران وزیر اعظم اسٹارمر نے زور دیا کہ خوراک کی پیداوار زرعی پالیسی کا مرکز رہے گی۔ انہوں نے سابقہ کنزرویٹو حکومتوں پر تنقید کی کہ انہوں نے حالیہ برسوں میں کسانوں کے مفادات اور ملک کی خوراک کی حفاظت کو کم تر اہمیت دی۔ ان کے نئے منصوبے اس صورتحال کو بدلنے کے لیے ہیں۔
ایک اہم ذمہ داری زرعی شعبے کو جدید بنانے کی ہے۔ جدت طرازی کو تیز کر کے کسانوں کو نئی ٹیکنالوجیز اور سہولیات تک جلد رسائی دی جائے گی۔ اس سے انہیں کام میں مدد ملے گی اور وہ مستقبل کے چیلنجوں کے لیے بہتر طور پر تیار ہوں گے۔
برطانوی حکومت زرعی آمدنی میں تنوع پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ کسانوں اور دیہی علاقوں کو اپنی روایتی سرگرمیوں کے علاوہ اضافی ذرائع آمدنی جیسے سیاحت یا توانائی کی پیداوار کے امکانات فراہم کیے جائیں گے۔ اسٹارمر کے مطابق اس سے زراعت کو معاشی اتار چڑھاؤ سے کم متاثر ہونے والے شعبے میں تبدیل کیا جا سکے گا۔
اس کے علاوہ سپلائی چین میں منصفانہ قیمتوں کی تقسیم کو یقینی بنایا جائے گا۔ کسانوں، سپلائرز اور ریٹیلرز کے درمیان تجارتی طریقہ کار کو زیادہ شفاف بنایا جائے گا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ کسانوں کو ان کی پیداوار کی مناسب قیمت ملے، جو کہ برطانیہ میں ایک طویل عرصے سے اہم مسئلہ ہے۔
تاہم ناقدین نئے لیبر منصوبوں کی عملی حیثیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ماضی میں زرعی زمین پر متنازعہ وراثتی ٹیکس جیسے تجاویز کو کسانوں کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس بات کا فیصلہ نہیں ہوا کہ نئے اقدامات کو زرعی برادری میں وسیع پیمانے پر قبولیت حاصل ہو گی یا نہیں۔
وزیر اعظم نے امید ظاہر کی کہ نئے اعلان کردہ پالیسیز سے اس شعبے میں استحکام آئے گا۔ اسٹارمر نے تمام متعلقہ فریقین کو اقدامات کے کامیاب نفاذ کے لیے تعاون کی دعوت دی۔ ان کے مطابق یہ ضروری ہے تاکہ برطانوی زراعت کو مستقبل کے لیے مضبوط بنایا جا سکے۔
متعلقہ مہینوں میں اس پابندی کی کامیابی کو محدود کیا گیا ہے۔ حکومت اور شعبہ کو مل کر مضبوط عمل درآمد کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ برطانوی زراعت بدلتے ہوئے اقتصادی اور ماحولیاتی حالات کے مطابق خود کو ڈھال سکے۔ صرف یوں ایک خوشحال مستقبل کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔

