صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایک نیا تجارتی معاہدہ کا اعلان کیا تھا۔ اس معاہدے کی فوری تصدیق برطانوی وزیراعظم کیر سٹارمر نے کی۔ دونوں رہنماؤں نے اسے دو طرفہ تعلقات میں ایک اہم قدم قرار دیا، جو باہمی معاشی ترقی کے لیے ہے۔
اس معاہدے کے تحت امریکہ نے برطانوی دھاتوں اور گاڑیوں پر امپورٹ ٹیکس کم کر دیے ہیں۔ اس کے بدلے میں ریاستہائے متحدہ کو برطانوی زراعتی مصنوعات کی منڈی میں بہتر رسائی ملے گی۔ یہ معاہدے کا پہلو خاص طور پر برطانیہ کے اندر، خصوصاً کسانوں کی تنظیموں کے درمیان متنازع ہے۔
برطانوی کسانوں نے اس معاہدے پر سخت تنقید کی ہے۔ نیشنل فارمرز یونین (NFU) سمیت دیگر کے مطابق یہ غیر منصفانہ مقابلے کا باعث بنے گا۔ کسانوں کو خوف ہے کہ سستے امریکی مصنوعات برطانوی منڈی کو بھر دیں گی، جس سے ان کی آمدنی اور پیداوار پر دباؤ پڑے گا۔
برطانوی زرعی تنظیموں کی ایک اور تشویش خوراک کی سلامتی ہے۔ وہ اشارہ کرتے ہیں کہ امریکی گوشت کی پیداوار کے معیارات برطانیہ کے مقابلے میں کم سخت ہیں۔ *دی ٹیلی گراف* کے مطابق خدشہ ہے کہ "معیاری سے کم گوشت" بڑے پیمانے پر درآمد کیا جائے گا۔
وزیراعظم سٹارمر نے اس معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس سے برطانیہ کے صارفین کو زیادہ انتخاب اور کم قیمتیں ملیں گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معاہدہ برطانیہ کی برآمداتی صنعتوں، جیسے آٹو انڈسٹری اور دھات کی پروسیسنگ کے لیے مواقع پیدا کرتا ہے۔
یہ تجارتی معاہدہ علامتی اہمیت کا حامل بھی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دکھاتا ہے کہ سٹارمر اور ٹرمپ سیاسی اختلافات کے باوجود مل کر کام کرنے کے قابل ہیں۔ یہ معاہدہ دونوں رہنماؤں کے لیے سفارتی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ اس سے پہلے سٹارمر نے کہا تھا کہ وہ یورپی یونین کے ساتھ نئے تجارتی تعلقات پر مذاکرات کرنا چاہتے ہیں، جب برطانیہ نے کچھ سال قبل بریکزٹ کے ذریعے EU چھوڑا تھا۔
امریکی وزیر زراعت اگلے ہفتے برطانیہ کا دورہ کریں گے تاکہ اس معاہدے پر مزید بات چیت کی جائے۔ *اگری لینڈ* کے مطابق اس دوران برطانوی کسانوں کی تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ بھی ملاقاتیں ہوں گی جو اپنی تشویشات براہ راست ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔

