یورپی یونین اور برطانیہ کے مذاکرات کاروں نے لندن میں ایک مستقبل کے یورپی-برطانوی تجارتی معاہدے پر اپنی گفتگو میں پیش رفت کی ہے۔
غیر تصدیق شدہ رپورٹس کے مطابق اب معاہدے کے مسودات تحریری شکل میں تیار کیے جا رہے ہیں، اور دستاویزات پر دستخط کے لیے تاریخ کے بارے میں قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔ یہ ایک اہم پیش رفت سمجھی جائے گی۔
نزدیک ذرائع کے مطابق، یہ پیش رفت دو مشکل مسائل پر اتفاق کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے: یورپی یونین چھوڑنے کے بعد برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان مساوی مسابقتی حالات، اور اس کی قانونی پابندیوں کی نگرانی۔ برطانوی نیوز ایجنسی بلومبرگ کو دیے گئے ان اطلاعات کے مطابق، اس پیش رفت سے توقع ہے کہ نومبر کے آغاز میں ایک معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
دونوں فریقین ایک مشترکہ دستاویز جس میں ریاستی مدد (state aid) پر غور کیا جائے گا، کو بھی مکمل کرنے کے قریب ہیں، اور ممکنہ معاہدے کی عمل درآمد کے طریقہ کار پر بھی قریب قریب رائے متفقہ ہے۔
اگرچہ اب بھی اختلافات کافی حد تک موجود ہیں، لیکن دستاویزات کی تیاری میں پیش رفت یہ ظاہر کرتی ہے کہ سات ماہ کی گفتگو کے بعد معاملے کے حل کے قریب پہنچے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے۔
برطانیہ 31 دسمبر کو یورپی یونین کی داخلی منڈی اور کسٹمز یونین چھوڑ دے گا۔ اس کے بعد درآمدات اور برآمدات پر مختلف تجارتی محصولات لاگو ہوں گے۔ برطانیہ اور یورپی یونین اس کے انتظامات ابھی مکمل نہیں کر سکے ہیں۔ اس نئی صورتحال میں لاکھوں صارفین اور کاروباری ادارے ٹیکسز، کوٹے اور مکمل کسٹمز چیکنگ سے متاثر ہوں گے۔
اگر مذاکرات کار 3 نومبر تک باقی اختلافات حل کر پاتے ہیں، تو برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اور یورپی کمیشن کی سربراہ اورسولا وان ڈیر لین لندن میں ایک حتمی معاہدے پر دستخط کریں گے، ذرائع کا کہنا ہے۔ ایسی صورت میں دونوں فریق متفق ہو سکتے ہیں کہ کسٹمز کا نیا نظام صرف مخصوص اشیاء اور مصنوعات پر لاگو کیا جائے گا یا اس کو بعد میں لاگو کیا جائے گا۔
یورپی ماہی گیروں کی برطانوی آبی حدود تک رسائی اب تک مذاکرات کا ایک بڑا تنازعہ رہا ہے۔ فرانس نے پہلے کہا تھا کہ وہ ماہی گیری کو محدود کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ مذاکرات کو تیزی ملے۔
برطانوی ماہی گیری حلقوں نے پہلے ہی یورپی ممالک کے ساتھ نروے (جو یورپی یونین کا رکن نہیں ہے) سے مشابہ معاہدہ کرنے کی تجویز دی ہے، جس کے تحت ہر پانچ سال بعد اجازت شدہ شکار کی کوٹے پر مذاکرات کیے جاتے ہیں۔

