یورپی یونین اور برطانیہ کے درمیان یکم جنوری 2021 سے نافذ العمل ایک تجارتی معاہدے پر مذاکرات میں اب بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ برسلز میں ساتویں مذاکراتی دور نے مطلوبہ پیش رفت فراہم نہیں کی، یورپی یونین کے سربراہ مذاکرات کار میشل بارنیئر نے اختتام پر یہ کہا۔ ’میں مایوس اور فکر مند ہوں،‘ فرانسیسی نے کہا۔
لندن کی حکومت چاہتی ہے کہ برطانوی ٹرک برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے بعد بھی یورپی یونین کی سڑکوں تک بغیر رکاوٹ رسائی حاصل رکھیں۔ یورپی کمیشن اس منصوبے کو درست نہیں سمجھتا کیونکہ اس سے ایک نیا پوشیدہ مشترکہ بازار بن جائے گا، جب کہ برطانوی بالکل اسی سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔
اس کے علاوہ حال ہی میں یورپی یونین کے اندر نئی باہمی قواعد و ضوابط متعارف کرائے گئے ہیں جنہیں کیبوٹیج کہا جاتا ہے۔ یہ یورپی یونین ٹرانسپورٹ معاہدہ ڈرائیوروں کے زیادہ سے زیادہ ڈرائیونگ اوقات، ان کے آرام کے اوقات، ٹیکوگراف کے استعمال اور غیر ملکی ممالک میں مال برداری کی منظوری جیسے امور طے کرتا ہے۔ برطانوی چاہتے ہیں کہ یہ حقوق برگزٹ کے بعد بھی ان کے لیے برقرار رہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ برطانوی ڈرائیور یورپی یونین کے اندر مال کی ترسیل جاری رکھ سکیں۔
برطانیہ کی کیبوٹیج کی ان شرائط کی وجہ سے بعد میں برگزٹ مذاکرات مکمل طور پر جام ہو گئے، جیسا کہ فنانشل ٹائمز (FT) نے رپورٹ کیا ہے۔ اخبار نے لکھا کہ برسلز میں یہ تجویز قبول نہیں کی گئی۔ برطانیہ اور یورپی یونین دونوں ہی متوازن معاہدوں کی اہمیت پر زور دیتے ہیں، تاہم ان کا اس حوالے سے تصور بالکل مختلف ہے۔ یورپی یونین کے مذاکرات کار اس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ اگر برطانوی ڈرائیوروں کو یورپی بازار تک رسائی ملی تو یورپی ٹرانسپورٹرز کی مارکیٹ پوزیشن متاثر ہوگی۔
معاہدے کے طور پر برطانویوں نے پیش کش کی ہے کہ ایسی ٹرانسپورٹ کی اجازت صرف ان برطانوی ٹرکوں کو دی جائے جو چینل ریل ٹنل یا کلیس اور ڈور کے درمیان فیری سروس استعمال کرتے ہیں۔ یہ برطانوی کنٹینر ٹرانسپورٹ کا تقریباً تین چوتھائی حصہ ہے۔ باقی سامان یوروپورٹ روٹرڈیم، بیلجیم کے اوستینڈے اور دیگر چھوٹے بندرگاہوں سے گزرتا ہے۔
متعدد میڈیا رپورٹس جو اچھی معلومات کے حامل ذرائع پر مبنی ہیں، ساتویں مذاکرات کے دوران ’ٹکراؤ‘ کی بات کر رہی ہیں۔ برطانویوں کے پاس سب سے زیادہ کھونا ہے، لیکن بورِس جانسن کی حکومت اب تک کسی رعایت پر راضی نہیں ہوئی۔ برسلز میں ساتویں مذاکراتی دور نے کوئی قابلِ قدر پیش رفت نہیں دی، یورپی یونین کے سربراہ مذاکرات کار میشل بارنیئر نے آخر میں کہا۔ ’میں مایوس اور فکر مند ہوں،‘ فرانسیسی نے کہا۔
بارنیئر نے خبردار کیا کہ معاہدہ اکتوبر کے آخر تک ہونا ضروری ہے تاکہ اسے تکنیکی اور قانونی طور پر وقت پر مکمل کیا جا سکے۔ اس کے بعد یورپی پارلیمنٹ کو بھی اسے منظور کرنا ہوگا۔ بارنیئر نے برطانوی جانب کم جذبے پر حیرت کا اظہار کیا کیونکہ جون میں وزیر اعظم بورِس جانسن نے کہا تھا کہ ماہی گیری اور معاہدوں کی نگرانی سمیت بنیادی موضوعات پر مذاکرات کی رفتار تیز کی جائے گی۔
برطانوی مذاکرات کار فراسٹ کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے جام ہونے کی وجہ یورپی یونین کی ریاستی امداد کے اصولوں اور ماہی گیری بارے موقف ہے۔ ’برسلز چاہتا ہے کہ ہم ان پر اتفاق کریں اس سے پہلے کہ دیگر اہم موضوعات پر بات چیت کریں۔ اس سے پیش رفت مشکل ہو جاتی ہے۔‘ برطانوی یکم فروری سے یورپی یونین سے نکل چکے ہیں، لیکن 31 دسمبر تک منتقلی کا دورانیہ جاری ہے جس میں اگلے مرحلے کے لیے تجارتی معاہدہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

