اب تک تقریباً 2,500 جانور لاریسا اور ٹریکالا کے علاقوں میں متاثرہ کھیتوں سے تلف کر دیے گئے ہیں۔ وبائی مرض کے آغاز کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقی کام جاری ہے کہ بیماری کہاں سے شروع ہوئی۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ انسانی صحت کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ حکام نے جانوروں کو قرنطینہ میں رکھا ہے اور عارضی ذبح پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
اس وبائی مرض کے جواب میں یونانی حکومت نے یورپی یونین کی ویٹرنری خدمات کے ساتھ مل کر ایک جامع کارروائی منصوبہ تیار کیا ہے، جس میں اضافی ویٹرنری ڈاکٹرز کو صورتحال پر قابو پانے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ حکومت نے اس مقصد کے لیے نجی اور فوجی ویٹرنری ڈاکٹروں کو شامل کیا ہے۔ مرکزی یونان میں اب تک 16,500 سے زائد بکریوں اور بھیڑوں پر ٹیسٹ عمل میں لائے گئے ہیں۔
یورپی یونین نے بیماری سے جلد اور مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے مالی اور تکنیکی مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ سخت قرنطینہ نافذ کیا جا رہا ہے اور متاثرہ علاقوں کی باریک بینی سے نگرانی کی جا رہی ہے۔ مویشی پالک صرف جانوروں کے نقصان پر نہیں بلکہ اس کے اقتصادی اثرات پر بھی فکر مند ہیں۔ بیمار جانوروں کو ذبح کرنے اور بیماری کو روکنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات نے مالی نقصانات میں اضافہ کیا ہے۔
کچھ بیمار بکریوں کے ساتھ کی جانے والی شرمناک سلوک کی خبریں بھی سامنے آئیں ہیں۔ فتیوٹیس کے علاقے میں آدھے بے ہوش بکریوں کو زندہ دفن کر دیا گیا، جس پر جانوروں کے حقوق کے گروپوں نے احتجاج کیا۔ مقامی حکام نے ان کارروائیوں کی سخت مذمت کی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسی حرکتیں ناقابل قبول ہیں۔
یونان کے وزیر زراعت نے اعلان کیا ہے کہ اس واقعے کے حالات کا معائنہ کیا جائے گا۔ ایسی صورتحال کے دوبارہ رونما ہونے سے روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے اور مویشی پالکوں کو بیمار جانوروں کے ساتھ ہمدردانہ رویے کے بارے میں بہتر تربیت اور آگاہی دی جائے گی۔
حکام کی کوششوں کے باوجود، یونانی دیہی علاقوں کی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے۔ بیلوں کی بیماری جلد پھیل سکتی ہے اگر مناسب ردِ عمل نہ دیا جائے۔ آئندہ ہفتے انتہائی اہم ہوں گے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اٹھائے گئے اقدامات بیماری کو روکنے میں کتنے مؤثر ہیں۔

