چین کی نئی درآمدی محصولات جو یورپی سور کے گوشت اور اس سے بننے والی اشیاء پر عائد کی گئی ہیں، فوری طور پر نافذ العمل ہو چکی ہیں۔ محصولات کی شرح 4.9 سے 19.8 فیصد تک مختلف ہے اور یہ مختلف یورپی یونین کے ممالک سے برآمد کنندگان پر لاگو ہوتی ہے۔ اس اقدام کے ساتھ پرانے عارضی زیادہ محصولات کا خاتمہ ہو گیا ہے۔
یہ محصولات 2024 میں شروع ہونے والی ایک تحقیق کے نتیجے میں عائد کی گئی ہیں۔ چین کا کہنا ہے کہ اس کیس میں ڈمپنگ ہوئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ مصنوعات کو چینی مارکیٹ میں بہت کم قیمتوں پر لایا گیا ہے۔ اس تحقیق کی بنیاد پر اب ہر یورپی یونین کے ملک کے لیے حتمی شرحیں طے کی گئی ہیں۔
یہ محصولات تمام ممالک اور کمپنیوں کے لیے یکساں نہیں ہیں۔ چین مختلف یورپی یونین کے ممالک سے برآمد کنندگان کے درمیان فرق کرتا ہے۔ ملک اور متعلقہ پروڈیوسرز کے مطابق مقررہ حد کے اندر کم یا زیادہ فیصد کا اطلاق ہوتا ہے۔
سپین میں زرعی شعبے کے نمائندے اس نتیجے کو مثبت طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سپین کی بیشتر کمپنیوں کے لیے محصول کی شرح 9.8 فیصد ہے۔ یہ ان کے مطابق واضح طور پر حد سے کم ہے اور پرانے عارضی محصولات سے بھی کم ہے۔ اس لیے سپینی گوشت برآمد کنندگان نے اسے نسبتا خوش آئند قرار دیا ہے۔
پہلے عارضی چینی محصولات یورپی سور کے گوشت پر بہت زیادہ تھیں جن کی شرح ساٹھ فیصد سے بھی زیادہ ہو سکتی تھی۔ اس کے مقابلے میں اب مقرر کردہ شرحیں کم ہیں، تاہم یہ پانچ سال تک نافذ رہیں گی۔
یہ اقدام اکیلا نہیں ہے۔ یہ چین اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی اقدامات کی ایک وسیع سلسلہ کا حصہ ہے۔ یورپ سے حال ہی میں مختلف چینی مصنوعات پر، جن میں چینی الیکٹرک گاڑیاں بھی شامل ہیں، زیادہ محصولات لگانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
چینی ویب شاپس سے یورپی صارفین تک سستی صارفین کی مصنوعات کی روانی بھی تجارتی تنازعہ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ یورپی یونین نے چھوٹے پیکجز پر اضافی ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا ہے جو ویب شاپس سے ذاتی صارفین کو بھیجے جاتے ہیں۔ یہ چند یورو کا ٹیکس ہے جو سالانہ کروڑوں شپمنٹس پر لگتا ہے۔
تمام اقدامات کے درمیان درست تعلق ابھی واضح نہیں ہے۔ ہر یورپی یونین کا ملک ایک ساتھ ایک ہی قدم نہیں اٹھا رہا اور بعض فیصلے مشترکہ معاہدوں سے پہلے کیے گئے ہیں۔ البتہ یہ واضح ہے کہ چین اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی تعلقات مزید کشیدہ ہو رہے ہیں اور اس کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔

