یہ بیماری توقع سے تیزی سے پھیل رہی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ نرم سردیوں اور ان مکھیاں ہیں جو وائرس پھیلاتی ہیں اور جن کے لیے موزوں موسمی حالات موجود ہیں۔ زیادہ متاثرہ فارموں کا پتہ تب چلا جب مویشیوں کے بڑے نمونہ جات کی جانچ کی گئی، جس سے معلوم ہوا کہ سات میں سے سات میں سے دس فارموں میں بیماری موجود تھی بغیر اس کے کہ انہیں علم ہو۔
زیادہ متاثرہ تعداد کا اب پتہ چلنا اس لیے ہے کیونکہ علامات ہمیشہ فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتیں اور بعض جانور وائرس کو واضح بیماری کے بغیر پھیلائے ہوئے ہوتے ہیں۔ مزید برآں، شروع میں صرف ان جانوروں کی جانچ کی گئی جن میں علامات تھیں، جس سے بہت سی بیماریاں پہلے نظر انداز رہیں۔
ڈنمارک کی حکومت نے اب سخت نگرانی کے اقدامات نافذ کر دیے ہیں، جیسے کہ متاثرہ علاقوں میں لازمی ٹیسٹنگ اور نقل و حمل پر پابندیاں۔ مویشی پال اضافی حفاظتی تدابیر اپنا رہے ہیں، مثلاً مکھیاں دور رکھنے والی ادویات کا استعمال اور چرائی کے طریقے کو تبدیل کرنا تاکہ مکھیاں کے رابطے کو کم کیا جا سکے۔
ایک اہم پیش رفت یہ ہے کہ نیل گلے کی بیماری کے خلاف دو نئی ویکسینوں کی حال ہی میں منظوری دی گئی ہے۔ ماہرین کی ایک ٹیم نے ان ویکسینوں کو مثبت انداز میں جانچا ہے، جس سے اب یہ بڑی تعداد میں مویشی پالوں کے لیے دستیاب ہوں گی۔ اسے بیماری کے خلاف جنگ اور اقتصادی نقصان کو کم کرنے میں ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
ویکسینز کی منظوری کے باوجود اس بات کا خدشہ ہے کہ ویکسینیشن مہم کتنی تیزی سے شروع کی جا سکے گی۔ خوراک کی دستیابی اور تقسیم کے معاملات پر تشویش پائی جاتی ہے۔ مویشی پالوں کو ترغیب دی جا رہی ہے کہ جیسے ہی ویکسین دستیاب ہوں، اپنے جانوروں کو جلد از جلد ٹیکہ لگوائیں۔
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بیماری کی مسلسل نگرانی اور نئے کیسز پر فوری ردعمل ضروری ہے تاکہ مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

