نئے قواعد کا مقصد رکن ممالک میں زمین کے معیار کی بہتر نگرانی اور اندراج ہے۔ EU کے ممالک کو آلودگی کے خطرات کی نشاندہی کرنی ہوگی، آلودہ مقامات کی فہرست تیار کرنی ہوگی، اور زمین کی صحت کے لیے قومی پالیسی بنانی ہوگی۔
نمایاں بات یہ ہے کہ اس ضابطے کا نفاذ ایک طویل عبوری مدت کے ساتھ ہو گا۔ صرف سال 2050 تک EU کے ممالک کو آلودہ زمین کی مکمل فہرست تیار کرنی ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ ممکنہ صفائی کے اقدامات کئی سالوں تک ملتوی ہو سکتے ہیں۔
EU کے ممالک کے درمیان موجودہ قوانین اور کوششوں میں بہت فرق ہے۔ جرمنی، بیلجیم اور نیدرلینڈز جیسے ممالک کے پاس زمین کی صفائی کے لیے جامع نظام موجود ہیں۔ اس کے برعکس، بہت سے مشرقی اور جنوبی یورپی ممالک کے پاس قوانین یا طریقہ کار بہت کم ہیں، جس کا ذکر یورپی پارلیمنٹ نے کیا ہے۔
مذاکرات کے دوران خاص طور پر زرعی حلقوں کی جانب سے سخت مخالفت سننے میں آئی۔ مختلف ممالک کے کسان تنظیموں اور دیہی باشندوں نے اضافی قواعد و ضوابط اور اخراجات کا خدشہ ظاہر کیا۔ تاہم، بہت سے ماحولیات کے وزرا سخت قواعد کے حامی تھے جو آخرکار نافذ نہیں ہوئے۔
تنقید نے اس بات کا باعث بنی کہ ضابطے کے حتمی متن سے تقریباً تمام متنازعہ نکات نکال دیے گئے۔ پابند اہداف کی بجائے صرف عمومی سفارشات شامل کی گئیں۔ اس سے زمین کی بحالی یا حفاظت کے لیے فوری ذمہ داریاں نہیں ہوتیں۔
خاص طور پر زرعی اور جنگلاتی علاقوں کو قانون کے دائرہ کار سے باہر رکھنا کچھ لوگوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ اگرچہ متعلقہ فریقین اس معاہدے کو ایک پیش رفت کے طور پر پیش کرتے ہیں، مگر واضح ہے کہ اس حتمی مفاہمت میں کئی سوالات باقی رہ گئے ہیں۔ توقع کی جاتی ہے کہ آئندہ سالوں میں صاف زمین کے ضابطے کو مزید سخت یا وسیع کرنے کے حوالے سے نئی تجاویز پیش کی جائیں گی۔

