چھوٹی ریت مچھلی نہ صرف معاشی اعتبار سے اہم ہے، خاص طور پر ڈنمارکی ماہی گیروں کے لیے، بلکہ یہ سمندری پرندوں کے لیے ایک اہم خوراک بھی فراہم کرتی ہے۔ برطانوی حکومت اس دعوے کی تائید میں سابقہ مچھلی شکار کوٹہ تحقیقاتی رپورٹس کا حوالہ دیتی ہے۔ ڈنمارک اور سویڈن نے برسلز سے درخواست کی ہے کہ وہ یورپی یونین کے اقدام کرے۔
EU کے مطابق لندن بریگزٹ معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے، جس میں واضح ہے کہ EU اور UK کو مچھلی کے ذخائر کو 'سائنس کی بنیاد پر قابو پانا چاہیے' اور پابندیاں تناسب کے مطابق ہونی چاہئیں۔ برسلز کا کہنا ہے کہ یہ پابندی سائنسی طور پر ثابت شدہ نہیں ہے اور یورپی یونین کے جہازوں پر غیر متناسب حد بندی ہے۔
ڈنمارکی پیلاگک پروڈیوسرز آرگنائزیشن کے مطابق اس پابندی کے باعث معاشی نقصانات ہوں گے کیونکہ ریت مچھلی، ڈنمارک کے ماہی گیروں کے لیے ایک اہم ذرائع آمدنی ہے اور اس سے منسلک مچھلی کے آٹے کی صنعت بھی متاثر ہوگی۔
تاہم، برطانیہ کا مؤقف ہے کہ یہ پابندی جزوی ہے اور وہ کچھ چمچماتے پرندوں کی تعداد میں نمایاں کمی کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ برطانوی ماحولیاتی تنظیم RSPB جیسی تنظیمیں اس پابندی کی حمایت کرتی ہیں اور اسے ماحولیاتی تحفظ کے لیے ایک بنیادی اقدام قرار دیتی ہیں۔
اگرچہ برطانوی حکومت نے EU کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، وہ اس اقدام کے حق میں قائم ہے اور برطانوی پانیوں میں برطانوی اور EU دونوں جہازوں کے لیے ریت مچھلی کی ماہی گیری تک مکمل پابندی عائد کی ہے۔

